بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو اکٹھی6بڑی خوشخبریاں

datetime 30  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی نے قومی اہمیت کے 6بڑے منصوبوں کی منظوری دیدی جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کیلئےئمانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے ۔جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقدہ ایکنک کے اجلاس میں 19ارب 98کروڑ 91لاکھ روپے کی لاگت سے ساتویں سیکنڈری ٹرانسمیشن لائن گرڈ سٹیشن پراجیکٹ ‘29ارب 7کروڑ71لاکھ روپے کی لا گت سے گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘4ارب 65کروڑ79لاکھ کی لاگت سے جنوبی پنجاب تخفیف غربت پراجیکٹ ‘7ارب 82کروڑ 98لاکھ کی لاگت سے بلوچستان میں 100چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے پیکج تھری(20ڈیم) اور 2کھرب3ارب31کروڑ 40لاکھ روپے کی لاگت سے گوادر ‘نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل اور پائپ لائن پراجیکٹ کی منظوری دی ۔ایکنک نے بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کی سمری صوبے کے مختلف اضلاع میں 100چھوٹے ڈیموں کے پیکیج تھری کی متناسب لاگت کے ساتھ منظوری دی ‘یہ منصوبہ تین سال کی مدت میں مکمل ہوگا جس سے بلوچستان کی بڑی آبادی مستفید ہوگی ۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے وزارت منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے ‘اسی طرح جنوبی پنجاب کیلئے تخفیف غربت منصوبہ صوبے کے کم ترقی یافتہ اضلاع بشمول بہاولپور‘بہاولنگر ‘مظفر گڑھ اور راجن پورمیں لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد دیگا ‘اس منصوبے کی نظر ثانی شدہ لاگت کا تخمینہ 4ارب 65کروڑ 79لاکھ 57ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔انٹر نیشنل فنڈ برائے زرعی ترقی نے اس منصوبے کیلئے 4کروڑڈالر سے زائد کے آسان قرضہ کے ذریعے معاونت فراہم کی ہے ۔یہ منصوبہ 2017میں مکمل ہوگا ۔گوادر نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل منصوبہ دو سال کی مدت میں مکمل ہوگا اس منصوبے کا مقصد ایل این جی کی درآمد کے ذریعے ملک میں قدرتی گیس کی کمی کے مسئلے پر قابو پانا ہے اس منصوبہ میں گوادر سے نواب شاہ تک 42انچ قطر کی 700کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی ۔اجلاس میں ٹرانسپورٹ اور موصلات کے شعبہ کے لئے وزارت ریلویز کو 58ڈیزل الیکٹرک انجنوں کی16ارب 30کروڑ روپے کی نظر ثانی شدہ لاگت کے ساتھ خریداری کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ خریداری دسمبر 2016تک مکمل کی جائے گی ۔خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں 106میگا واٹ کے گولن گول ہائیڈور پاور پراجیکٹ کو 198کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی نظر ثانی شدہ لاگت کا تخمینہ 29ارب 7کروڑ71لاکھ روپے لگایا گیا ہے ۔اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ساتویں سیکنڈری ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ سٹیشنز کی تعمیر کے منصوبہ 19ارب 98کروڑ 91لاکھ روپے کی متناسب لاگت کے ساتھ منظوری دی گئی ہے ۔یہ منصوبہ پانچ سال(2016-21)میں مکمل ہوگا اور اس سے خیبر پختونخواہ کا پورا صوبہ استفادہ کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…