جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

’’عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز‘‘ غصے میں بپھرے پاکستانیوں نے حملہ کر دیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)غیر اعلانیہ مسلسل لوڈ شیڈنگ پر قابو نہ پایا گیا تو نتائج کے ذمہ دار واپڈا کے افسران ہونگے اوپر تک بات پہنچا دی جائے ، چنگیز خان کی واپڈا افسران کو سخت ہدایت، چھچھ کو چنگیز خان جیسے مخلص ، نڈر اور عملی اقدامات اٹھانے والے لیڈر کی ضروت ہے ، عوام علاقہ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی روز سے تحصیل حضرو میں بجلی کی ظالمانہ غیر اعلانیہ اور مسلسل لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے لوگ عاجز آ گئے جس پر مختلف دیہات اور حضرو کے کچھ نوجوانوں اور سپورٹرز نے چنگیز خان کو یہ مسئلہ بیان کیا تو وہ درجنوں افراد کو لیکر اچانک واپڈا حضرو کے دفتر پر چڑھ دوڑے ، اس موقع پر لوگوں نے حکومت کے خلاف اور چنگیز خان زندہ باد کی نعرے بازی کی جس کی آوازیں سن کر واپڈا کے کچھ افسران اور اہلکار کھسک جانے میں کامیاب ہو گئے تاہم ایک بند کمرے کو کھول کر چنگیز خان ساتھیوں سمیت اندر گھس گئے اور موقع پر موجود واپڈا افسران سے مسلسل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر سخت احتجاج کیا ، واپڈا افسران کے پاس کوئی جواب نہ تھا ، ان سے شیڈول اور دیگر ثبوت مانگے گئے تو وہ بھی دکھانے میں ناکام رہے جس پر چنگیز خان نے کہا کہ افسر شاہی ختم ہو گئی ، تمام محکموں کے افسران عوام کے خادم بن کر ان کے مسائل حل کریں ، عوام کو ہم کسی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے ، اس موقع پر واپڈا کے ایک افسر نے موبائل فون پر بات کرنا چاہی تو چنگیز خان نے ان سے موبائل فون چھین لیا اور کہا کہ پہلے ہمیں جوابدہ ہوں جس پر وہ افسر خاموش ہو گیا ، اس موقع پر چنگیز خان نے کہا کہ ہم نتائج کی پرواہ کئے بغیر احتجاج اور انتہائی اقدام کیلئے تیار ہیں انہوں نے اپنے ساتھ آئے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے پرزور آواز میں کہا کہ ہم تیار ہیں اور واپڈا کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر واپڈا کے ستائے افراد اور مطاہرین نے چنگیز خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے مشکور ہیں کہ ان سے واپڈا کی لوڈ شیڈنگ پر بات کی تو وہ پانچ منٹس میں واپڈا کے دفتر ہمیں ساتھ لیکر پہنچ گئے اور جس جراتمندی سے عوام کا مقدمہ لڑا اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، انہوں نے کہا کہ چھچھ کے عوام کو چنگیز خان جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…