اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

قذافی کا لیبیا اب کس حال میں ہے؟افسوسناک صورتحال

datetime 19  ستمبر‬‮  2016 |

طرابلس (این این آئی)لیبیا میں تیل کی بندرگاہوں پر کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز اور مشرقی علاقے میں اس کی متحارب انتظامیہ کے تحت ملیشیا (لیبیا نیشنل آرمی) کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی اور دوسرے شہروں پر قابض متنازعہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورس کے ترجمان محمد ابسط نے ایک بیان میں کہا کہ پیٹرولیم تنصیبات کے گارڈ (پی ایف جی) نے اتوار کی صبح راس لانوف کا کنٹرول واپس لینے کے لیے حملہ کیا ہے اور ہماری فورسز ان سے لڑ رہی ہیں۔خلیفہ حفتر کے زیرکمان فورسز نے گذشتہ ہفتے لیبیا کی تیل کی چار بندرگاہوں پر لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔تیل تنصیبات کے محافظ گارڈ طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کے وفادار ہیں۔انھوں نے دو بندرگاہوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے آج جوابی حملہ کیا ہے۔پی ایف جی کے ترجمان علی الحاسی نے بتایا کہ ہم نے السدر اور راس لانوف پر حملہ کیا ہے اور حفتر کی فورسز جنگی طیاروں کے ذریعے ہم پر جوابی حملے کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی چاروں بندرگاہوں سے بے دخلی طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔اس حکومت کی آمدن کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہی ہے اور وہ طرابلس میں مارچ میں کنٹرول کے بعد سے پورے ملک میں اپنی عمل داری کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔واضح رہے کہ خلیفہ حفتر اور لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی دوسری عسکری اور سیاسی قوتوں نے طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس کی مشرقی لیبیا میں عمل داری بھی قائم نہیں ہونے دی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک نے خلیفہ حفتر کی فورسز کے تیل کی بندرگاہوں پر قبضے کی مذمت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…