جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف اور عمران خان نے اس سال کتنا ٹیکس دیا؟

datetime 9  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ملک کی اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کی جانب سے رواں برس جمع کروائے گئے ٹیکس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین ملک بھر کے سیاست دانوں میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے پونے چار ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا ۔جبکہ نواز شریف نے اکیس لاکھ بانوے ہزاراور عمران خان نے 76 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں سیاست دانوں کی جانب سے جمع کروائے گئے ٹیکسز کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں ۔ پارلیمنٹیرینز کے ٹیکس گوشواروں کے مطابق انہوں نے کتنا کتنا ٹیکس ادا کیا اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے
جہانگیر ترین نے 3 کروڑ 76 لاکھ 528 روپے
عمران خان نے 76 ہزار 244 روپے
نواز شریف نے 21 لاکھ 95 ہزار 341 روپے،اور 2014 میں 26 لاکھ 11 ہزار 37 روپے
چوہدری پرویز الٰہی نے 14 لاکھ 3 ہزار 947 روپے اور 2014 میں 13 لاکھ 49 ہزار 677 روپے
مسلم لیگ ن کے دانیال عزیز نے 4 لاکھ 21 ہزار 926 روپے
وفاقی وزیر زاہد حامد نے 70 ہزار 216 روپے
وزیراعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے 63 لاکھ 30 ہزار 632 روپے
مولانا فضل الرحمان نے 49 ہزار 902 روپے
اور وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر نے بھی 49 ہزار 902 روپے
وزیر داخلہ چوہدری نثار نے 8 لاکھ 47 ہزار 662 روپے
وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے 21 لاکھ 38 ہزار 530 روپے
ن لیگی رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے 34 ہزار 664 روپے
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک لاکھ 6 ہزار 897 روپے
عابد شیر علی نے ایک لاکھ 28 ہزار 440 روپے انکم ٹیکس جمع کرایا۔
سائرہ افضل تارڑ نے 92 ہزار 383 روپے
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 39 لاکھ 13 ہزار 778 روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیف ڈاکٹر فاروق ستار نے 67 ہزار 639 روپے
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایک لاکھ 13 ہزار 740 روپے
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے 7 لاکھ 30 ہزار 107 روپے
سینیٹر اعتزاز احسن نے 2 کروڑ 49 لاکھ 31 ہزار 890 روپے
سینیٹر رحمان ملک نے 47 ہزار 362 روپے
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 51 ہزار 313 روپے
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے 3 لاکھ 12 ہزار 383 روپے
ایف بی آر کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق کئی سیاست دانوں اور پارلیمنٹیرینز نے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع ہی نہیں کروائے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…