جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

شریف برادران نے جہانگیر ترین کا ریفرنس کیوں بھیجا؟  حسین نواز اور چوہدری شوگر مل کا معاملہ کیا ہے؟

datetime 9  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کےسینئر رہنما جہانگیر ترین نے الزام لگایا ہے کہ شریف برادران مجھے سے ذاتی عناد کے باعث میرے خلاف سرگرم ہیں ۔ میاں صاحب میری ترقی سے خائف ہیں میرے خلاف ریفرنس بھیجنے کی اصل وجہ کاروباری عناد ہے ۔ نواز شریف کے غیر قانونی کاروباری اقدام کے خلاف ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر لینے کی پاداش میں مجھے الیکشن کمیشن کے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے نجی ٹی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاںبرادران میری تیزی سے کی جانے والی ترقی سے خائف ہیں ، ان کے پاس بنا بنایا کاروبار تھا میں نے دن رات ایک کر کے ارو فیلڈ میں کام کر کے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچایا ہے ان کا کہنا تھا کہ میں نے بیس سال تک کاشتکاروں کی تربیت کر کے اور گراؤنڈ پر کام کر کے محنت کی اور اپنا نام بنایا ، رحیم یار خان کو گنے کی کاشت کے لئے پاکستان کا ماڈل علاقہ بنایا ۔ پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ جلاوطنی کے بعد واپس آنے کے بعد جب انہوں نے میری ترقی دیکھی تو حسن اور حسین نواز کو میرے پاس بھیجا جہاں وہ میرے پاس دو ہفتے مقیم رہے اور میرے کاروباری ماڈل اور شوگر مل کے کاروبار میں کی جانے والی ترقی کے لئے میری حکمت عملی مجھ سے سیکھتے رہے جو میں نے نئے سیکھنے والوں کے لئے اپنے کھلے دل کی وجہ سے ان کو تفصیل سے سکھا دی ۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ چوہدری شوگر مل جو کہ وزیر اعظم کی ذاتی ملکیت ہے اسے چنیوٹ سے رحیم یار خان غیر قانونی طور پر منتقل کیا جارہا ہے جس کی قانونی طور پر اجازت نہیں ہے جس پر میں نے ہائیکورٹ سے سٹے آرڈر بھی لے رکھا ہے مگر وزیر اعظم نے ہی ملک کے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس آرڈر کو پس پشت ڈال دیا ہے اور مل کی تنصیب کا کام دھڑادھڑ جاری ہے ۔ اس معاملے پر مزاحمت ہی میرے زیر عتاب آنے کی بنیادی وجہ ہے ۔
جہانگیر ترین نے مزید الزام لگایا کہ مجھے ٹیکس کے معاملےمیں بھی پھنسانے کی کوشش کی، جس کی ہر بات کا جواب دیا گیا، میرا کاروبار صاف اور شفاف رہا ہے میں نے کبھی بھی کاروبار میں غلط راستہ اختیار نہیں کیا۔ کاشتکاروں کو وقت پر پیسا دینا اور ان کی بیس سال تک تربیت کرنے کے بعد آج اس مقام پر ہوں کہ میرا علاقہ پاکستان میں گنے کی کاشت کا بہترین علاقہ ہے اور علاقہ کے کاشتکاروں کی مالی حالت میں بے انتہا بہتری آئی ہے ۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ یہ کاروباری مسائل ہیں جو میں کبھی سامنے نہیں لانا چاہتا تھا مگر آج ہونے والے واقعات، ریفرنس میں الٹے سیدھے الزامات کے بعد میں مجبور ہو گیا ہوں کہ ان اصل حقائق کو بھی سامنے لاؤں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…