ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارت کے ایک گاؤں میں بیٹیاں خاندان کی پہچان بن گئیں

datetime 31  اگست‬‮  2016 |

رانچی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست جھار کھنڈ کے ایک قبائلی گاؤں میں بیٹیاں خاندان کی پہچان بن گئیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ایک قبائلی گاؤ ں میں جب آپ کسی شخص کا پتہ پوچھتے ہیں تو لوگ اس خاندان کی بیٹی کا نام بتاتے ہوئے اس کا گھر دکھا دیتے ہیں۔شہر جمشید پور سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر بسے ترنگ گاؤ ں کی شناخت اچانک بدل گئی ہے۔وہاں گھروں میں مٹی کی دیواروں پر لٹکنے والی نیم پلیٹوں پر پوجا، چاندنی، سجلا، پھول منی، پائل اور ٹیسو جیسے لڑکیوں کے نام دیکھ کر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم کے تحت ملک کے کئی حصوں میں بیٹی بچا، بیٹی پڑھا جیسی تحریکیں پہلے سے ہی چل رہی ہیں لیکن ترنگ گاؤ ں میں میری بیٹی میری شناخت کے نام سے مہم چلائی جارہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے نیم پلیٹ پر لڑکیوں کے نام کے ساتھ ان کی ماں کے نام بھی لکھے گئے ہیں۔اس سرکاری مہم کو جمشید پور کے ڈپٹی کلکٹر سنجے کمار چلا رہے ہیں۔قبائلی اکثریت والے ترنگ گاں میں تقریبا 90 مکان ہیں۔ یہ پہلا گاں ہے جہاں گھروں کی شناخت بیٹیوں کے نام سے ہونے لگی ہے۔ یہاں کے بیشتر لوگ کاشتکار یا مزدور ہیں۔اس مہم کو شروع کرنے سے پہلے سنجے کمار نے گاؤ ں کی پنچائیت، مقامی سکول کے اساتذہ، صحافیوں، خواتین سماجی کارکن اور دیگر حکام کے ساتھ صلاح و مشورہ کیا پھر سبھی کی رضامندی سے اس کو شروع کیا۔اس مہم کے آغاز سے پہلے گاؤ ں میں بیداری کے لیے ریلی نکالی گئی جس میں خواتین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…