سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں سکھ دانشور سرکل ، شرومنی اکالی دل (امرتسر) ، انٹرنیشنل سکھ فیڈریشن اور سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیڈروں مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مختلف سکھ تنظیموں کے لیڈروں اور نمائندوں کی بڑی تعداد نے پریس انکلیو سرینگر میں پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا اور کشمیریوں کی جاری جدوجہد آزادی کی حمایت کا اعلان کیا ۔ مظاہرے کی قیادت نریندر سنگھ خالصہ کر ہے تھے۔ مظاہرین صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری اپنے مسلمہ حق ،حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جائز جدوجہد کر رہے ہیں۔ نریندر سنگھ خالصہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فارق اور محمد یاسین ملک کے مشترکہ پروگرام کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی عوامی تحریک کو دبانے کیلئے طاقت کا بے تحاشہ استعمال قابل مذمت ہے۔ سکھ لیڈروں کا کہنا تھا کہ بھارتی حکمران کشمیریوں کی پر عزم جدوجہد کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اوراب وہ اس جدوجہد کو دبانے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال ،حریت رہنماؤں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ ، شہریوں کے قتل عام اور گلی گلی گاؤں گاؤں ظلم و زیادتیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور حتمی حل کیلئے اقدامات کرے ۔ سکھ لیڈران نے اقوام متحدہ ،عالمی برادری اورایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر ظلم و تشدد کا سلسلہ بند کرانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کوبھارتی فورسز کے ہاتھوں بدترین مظالم اور زیادتیوں کا سامنا ہے اور ایسے میں عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مسلمانوں کے مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس مسئلے سے جموں وکشمیرکے سبھی لوگوں کا مستقبل بھی جڑا ہے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے سہ فریقی مذاکرات شروع کرنے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندے بھی شامل ہونے چاہیے۔اس موقعہ پر بھائی گردیو سنگھ ، سردار بکرم سنگھ ، سردار امن جیت سنگھ ، سردار رنجیت سنگھ ، جسپال سنگھ ، منجیت سنگھ ، سریندر سنگھ اور موہن سنگھ بھی موجود تھے۔
مقبوضہ کشمیر،جدوجہدآزادی میں تیزی کے بعد بالاخر سکھوں نے بھی بھارت کو جھٹکادیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سہیل آفریدی کا آخری جلسہ
-
اسلام آباد اور راولپنڈی میں برفباری،پورے پنجاب میں خوفناک سردی، ماہرین نے خدشہ ظاہر کردیا
-
شبِ معراج کے مقدس موقع پر عام تعطیل کا اعلان
-
گوجرانوالہ ؛سوشل میڈیا پر وائرل غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون گرفتار،مقدمہ درج
-
نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کی مکمل تیاری
-
نامعلوم افراد کی فائرنگ مشہور ٹک ٹاکر خاتون جاں بحق
-
سود کے بغیر آسان قسطوں پر 150سی سی موٹر سائیکل حاصل کریں
-
سونے کی قیمت میں حیران کن اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا ہوگیا؟
-
پاکستان میں سونا مزید مہنگا، قیمت تاریخی بلندی پر جاپہنچی
-
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی چھٹیوں میں اضافہ کردیا
-
رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کی اپنی ساس کے ساتھ مبینہ وائس نوٹ لیک ہوگئی
-
تعلیمی اداروں میں مزید چھٹیوں کا اعلان
-
ہونڈا نے پاکستان میں اپنی اہم گاڑی کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا
-
انٹرنیشنل مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخی بلندیوں پر پہنچ گئیں















































