بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے پراسرار ترین راز پر سے پردہ اٹھنے والا ہے ۔۔۔خلائی مخلوق بارے امریکی حکومت کیا جانتی ہے ؟ اہم دستاویزات کی موجودگی کا انکشاف

datetime 30  اگست‬‮  2016 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں بہت سی تخلیقات اور راز ایسے ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے اور انہیں میں سے ایک خلائی مخلوق بھی ہے ۔کوئی اسے سچ مانتا ہے اور کوئی اسے جھوٹ تاہم امریکہ میں خلائی مخلوق کے متلاشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت جانتی ہے کہ دوسرے سیاروں سے خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ رکھی گئی اہم دستاویزات عنقریب منظر عام پر آنے والی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق خلائی مخلوق کے وجود پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 1947ء میں پیش آنے والے بدنام زمانہ واقعے ’’روزویل ‘‘میں خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری جانوروں کے ایک باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی لیکن امریکی حکومت اس واقعے کے شواہد بھی منظرعام پر نہیں لائی۔ اس وقت امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑے میں گرنے والی طشتری دراصل موسمی صورتحال بتانے والا غبارہ تھا، مگر کئی سال بعد معلوم ہوا کہ دراصل یہ ایک جاسوس طیارہ تھا جو ایٹمی خطرے کی نشاندہی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور گر کر تباہ ہو گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ تو موسمی غبارہ تھااور نہ ہی جاسوس طیارہ۔ وہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی جو زمین پر اترنے کے دوران اس باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اپالو 14کے خلانورد ایڈگر مشعیل، جو رواں برس فروری میں انتقال کر چکے ہیں، نے واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت نے اس حوالے سے ایک پورا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا کہ عوام کو یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ خلائی مخلوق انسانوں کی دشمن ہے اور آیا ہم اپنے آپ کو ان سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔ حکومت یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ سوویت یونین کو اس معاملے سے آگاہی ہو۔ اس پر پردہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ‘‘ کینیڈا کے ایک سابق وزیردفاع پاؤل ہیلیئر نے بھی دعویٰ کررکھا ہے کہ ’’خلائی مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ایسے کئی شواہد دیکھ رکھے ہیں جن سے خلائی مخلوق کی زمین پر آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ میں پوری یکسوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خلائی مخلوق کو دیکھ رکھا ہے یا جو لوگ خلائی مخلوق کے متعلق امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو لوگ 1947ء کے روزویل کے واقعے میں تباہ ہونے والی اڑن طشتری کا ملبہ دیکھنے کے داعی ہیں وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ واقعی خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی۔بحر حال کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…