منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

ترکی کے صبر کا پیمانہ لبریز،اہم اسلامی ملک پر جنگی طیاروں کی بمباری،درجنوں ہلاک و زخمی

datetime 28  اگست‬‮  2016 |

بیروت(این این آئی) شام میں ترک جنگی طیاروں کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 20 عام شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ادھر ترک فوج نے کہاہے کہ کرد ملیشیا نے زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے دو ٹینکوں پر راکٹ حملہ کیا جس میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی مبصر تنظیم برائے انسانی حقوق کے عہدے دار رمی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ شام کے شہر جرابلس کے جنوب میں واقع گاؤں جیب الکوسہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں 20 عام شہری ہلاک ہوئے ۔ترکی نے شدت پسند تنظیم داعش اور کرد ملیشیا کے خلاف پانچ روز قبل زمینی و فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا اور گزشتہ روز ترکی کا ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا تھا۔یہ شام میں ترک کارروائی کے آغاز کے بعد ترک فوج ہو ہونے والا پہلا جانی نقصان تھا اور ترک فوج کا کہنا تھا کہ کرد ملیشیا نے زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے دو ٹینکوں پر راکٹ حملہ کیا جس میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔خیال رہے کہ ترکی نے اپنی سرحد سے متصل شام کے شہر جرابلس میں’فرات کی ڈھال‘ کے عنوان سے فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ جرابلس میں جاری ’’فرات کی ڈھال‘‘ آپریشن کے دوران شدت پسند گروپ داعش کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور فوجی آپریشن کے لیے 50 ٹینک اور 400 ترک فوجی جرابلس بھیجے جاچکے ہیں۔ انقرہ شام میں سرگرم وائی پی جی یا کردش پیپلز پرٹیکشن یونٹس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ترکی کے جنوب مشرق میں کردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ترکی نے مذکورہ گروپ کو ہدایت کی تھی کہ وہ دریائے فرات کے اطراف سے پیچھے ہٹ جائے تاہم یہ گروپ اس علاقے میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کا ایک موثر شراکت دار ہے۔داعش 2013 سے شام اور ترکی کے سرحدی علاقے پر قابض ہے اور 2014 میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز نے اس علاقے پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کیلئے مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔رواں ماہ کردوں کی سربراہی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز نے سرحدی شہر منبج کا کنٹرول داعش سے چھڑالیا تھا جس کے بعد داعش کے پاس محض جرابلس کا کنٹرول رہ گیا تھا۔اب ترکی کی جانب سے کارروائی کا آغاز اس بات کی کوشش ہے کہ وہ کرد فورسز سے پہلے ہی جرابلس کا کنٹرول سنبھال لے اور اس مقصد کے لیے وہ شامی باغیوں کی مدد کررہا ہے۔گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی وائی پی جی سے کہا تھا کہ وہ دریائے فرات کے اطراف کا علاقہ خالی کردے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو واشنگٹن اس کی حمایت بند کردے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…