جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان محمود خان اچکزئی کی حمایت میں کھل کرسامنے آگئے،اہم تجویز پیش کردی

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی) جمعیت علماء اسلام (ف)ٰ گروپ کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 فیصد نتائج کا دعویٰ قبل از وقت ہے۔ یہ ایک بڑی جنگ ہے۔ جس کے خاتمے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لئے تمام اداروں کو یکجا ہو کر نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی کو غدار کہنا غلط ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو نجی اسپتال میں کوئٹہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جے یو آئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کو انٹیلی جنس فیلیئر نہیں کہا جاسکتا۔انسانوں سے خامیاں ہر جگہ ہوسکتی ہیں اور اداروں کی ازسر نو صف بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان ایکٹ ایک امتیازی قانون ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام اسی ایکٹ کا حصہ تھا۔ اس امتیازی قانون کی منظوری پر ہم نے مخالفت کی تھی جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بھی اس قانون سے تحفظات تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے زخم کبھی مندمل نہیں ہوسکتے۔ دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کرکے بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ دہشت گردی کے اندوہناک واقعات کے بعد اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی اور نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس جنگ سے نکلنے کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس جنگ سے نکلنے کے لئے ہمیں اپنی کمزوریاں دور کرنا ہوں گی اور مقاصد کے حصول کے لئے قومی اتفاق رائے سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ جگہیں اور عناصر موجود ہیں جہاں اصلاحات مقصود ہیں لیکن تنقید مقصود نہیں۔انھوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کا زمہ دار کون ہے اس کا تعین کرنا ابھی مشکل ہے تاہم اگر کسی نے کوتاہی کی ہے تو اس کا احتساب ہوناچاہیے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو غدار کہنا غلط ہے،انھوں نے تو اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…