اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سی پیک منصو بے کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے انتہائی اہم کام کر نا ضر وری ہے

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

کرامے ( آن لائن )پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ چین کی حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع کیے جانیوالے منصوبوں پرعمل درآمدکی رفتار کو برقرار رکھے۔ سی پیک کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے انتہائی توجہ کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک کے پرائیوٹ سیکٹر کو بھرپور طریقے سے شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کے ذریعے دونوں ممالک کے پرائیوٹ سیکٹر کو قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششوں کے بغیر سی پیک وژن کو عملی جامہ پہنانامشکل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر کرامے میں منعقدہ ’’سلک روڈ ایکنامک بیلٹ کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے آغاز پر دونوں ممالک کے پرائیویٹ سیکٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن ان مشکلات پر قابوپایا جاسکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان اور چین نے انتہائی مشکل منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیا ہے قراقرم ہائی وے اس کی بہترین مثال ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہری علاقوں کی ترقی کے لیے چینی کمپنیوں کا تجربہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، چینی فرمز شہروں کے انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا تجربہ رکھتی ہیں۔اس سے پاکستان کے شہروں میں سرمایہ کاری بڑھے گی چینی سرمایہ کار وں کے لیے پاکستان کے بڑے شہروں میں سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔ اس سرمایہ کاری سے پاکستان میں معاشی سسرگرمیوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ شہر ہی معاشی ترقی کا مرکز ہیں، شہروں میں سرمایہ کاری کے بغیر معاشی ترقی کی رفتار نہیں بڑھائی جاسکتی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی کمپنیاں اپنے تجربے سے پاکستان کے شہروں کی حالت زار بہتر کرسکتی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی چینی کمپنیوں کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے نیشنل پیپلزکانگریس کمیٹی فارن افیئرز کی نائب سربراہ ڈاکٹر ژاو بیگ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سی پیک پر عمل درآمد کے لیے کرامے فورم کا انعقاد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…