ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سی این جی گیس کی لیٹر میں فروخت ،اندر کی کہانی کیا ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 9  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)سی این جی ایسوسی ایشن کے سندھ میں سی این جی کلو کی بجائے لیٹر میں فروخت کرنے کے مبینہ فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے منگل کو کہا کہ ملکی گیس/سی این جی کو لیٹر میں فروخت کرنا غیر قانونی ہے ۔ اوگرا کے ترجمان کے مطابق صرف درآمد شدہ گیس والی سی این جی (آر ایل این جی) کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا ہے جبکہ سندھ کے سی این جی اسٹیشن اب تک درآمد شدہ گیس استعمال نہیں کر رہے ہیں لہذا جو سی این جی اسٹیشن سی این جی (کمپریسڈ نیچرل گیس)کے لئے مقامی گیس استعمال کر رہے ہیں کلو گرام کی بجائے لیٹر میں فروخت نہیں کر سکتے ہیں ۔ اتھارٹی نے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کو مطلع کیا ہے کہ اوگرا کی طرف سے 31اگست2015کو مشتہر کی جانے والی سی این جی کی زیادہ سے زیادہ قیمت فروخت خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پوٹھوارریجن(راولپنڈی، اسلام آباد اورگوجرخان) کے لئے 75.82روپے فی کلو گرام اور سندھ اور پنجاب میں تمام ملکی گیس والے سی این جی اسٹیشنوں کے لئے 67.50روپے فی کلو گرام تمام ملکی گیس والے سی این جی اسٹیشنوں کے لئے قانونی طور پر مقرر شدہ ہے ۔ترجمان نے کہا کہ جو بھی سی این جی اسٹیشن اوگرا کی طرف سے مشتہر کئے جانے والے نرخوں سے زیادہ وصول کرے گا وہ غیر قانونی ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی ۔ اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ متذکرہ بالا نوٹیفکیشن متعلقہ قانون کے تحت اور ای سی سی (کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی) کے فیصلوں کے مطابق جاری کیا گیا ہے لہذا تمام سی این جی اسٹیشن پر قانونی پر یہ لازم ہے کہ وہ (مقامی گیس والی ) سی این جی لیٹر کی بجائے کلوگرام میں فروخت کریں ۔ اس ضمن میں اوگرا نے سی این جی ایسوسی ایشن کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اور قانون کے مطابق اتھارٹی کے غور وخوص کے لئے تجاویز پیش کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…