بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سی این جی گیس کی لیٹر میں فروخت ،اندر کی کہانی کیا ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 9  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)سی این جی ایسوسی ایشن کے سندھ میں سی این جی کلو کی بجائے لیٹر میں فروخت کرنے کے مبینہ فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے منگل کو کہا کہ ملکی گیس/سی این جی کو لیٹر میں فروخت کرنا غیر قانونی ہے ۔ اوگرا کے ترجمان کے مطابق صرف درآمد شدہ گیس والی سی این جی (آر ایل این جی) کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا ہے جبکہ سندھ کے سی این جی اسٹیشن اب تک درآمد شدہ گیس استعمال نہیں کر رہے ہیں لہذا جو سی این جی اسٹیشن سی این جی (کمپریسڈ نیچرل گیس)کے لئے مقامی گیس استعمال کر رہے ہیں کلو گرام کی بجائے لیٹر میں فروخت نہیں کر سکتے ہیں ۔ اتھارٹی نے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کو مطلع کیا ہے کہ اوگرا کی طرف سے 31اگست2015کو مشتہر کی جانے والی سی این جی کی زیادہ سے زیادہ قیمت فروخت خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پوٹھوارریجن(راولپنڈی، اسلام آباد اورگوجرخان) کے لئے 75.82روپے فی کلو گرام اور سندھ اور پنجاب میں تمام ملکی گیس والے سی این جی اسٹیشنوں کے لئے 67.50روپے فی کلو گرام تمام ملکی گیس والے سی این جی اسٹیشنوں کے لئے قانونی طور پر مقرر شدہ ہے ۔ترجمان نے کہا کہ جو بھی سی این جی اسٹیشن اوگرا کی طرف سے مشتہر کئے جانے والے نرخوں سے زیادہ وصول کرے گا وہ غیر قانونی ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی ۔ اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ متذکرہ بالا نوٹیفکیشن متعلقہ قانون کے تحت اور ای سی سی (کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی) کے فیصلوں کے مطابق جاری کیا گیا ہے لہذا تمام سی این جی اسٹیشن پر قانونی پر یہ لازم ہے کہ وہ (مقامی گیس والی ) سی این جی لیٹر کی بجائے کلوگرام میں فروخت کریں ۔ اس ضمن میں اوگرا نے سی این جی ایسوسی ایشن کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اور قانون کے مطابق اتھارٹی کے غور وخوص کے لئے تجاویز پیش کریں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…