ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بے گناہ افراد کی ہلاکت ڈرون حملوں میں اوبامہ کا کیا کردار ہے؟ خفیہ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

datetime 7  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے خفیہ پالیسی دستاویز منظر عام پر لے آئی جس میں ڈرون حملے سے قبل اہداف کا تعین اور اس عمل میں امریکی صدر کے کردار کی تفصیلات درج ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکن سول لبرٹیز یونین(اے سی ایل یو) کی جانب سے 18 صفحات پر مبنی پریزیڈنشل پالیسی گائیڈنس (پی پی جی) شائع کی گئی ہے جسے کبھی ‘دا پلے بْک’ کہا جاتا تھا۔پی پی جی کے مطابق نامزد کردہ دہشتگرد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ یہ حملہ جس حد تک ممکن ہو درست ہو اور اس میں بے گناہ شہریوں کی جان نہ جائے۔پی پی جی کے مطابق جنگ زدہ علاقوں سے باہر پاکستان، لیبیا، صومالیہ اور یمن جیسے ممالک میں کسی دہشتگرد پر حملے کی منظوری امریکی صدر باراک اوباما دیتے ہیں جبکہ عراق، شام اور افغانستان وغیرہ میں حملوں کا کنٹرول امریکی فوج کے پاس ہوتا ہے۔پی پی جی میں درج ہے کہ ہر کارروائی سے قبل نیشنل سیکیورٹی کونسل حملے کا قانونی جائزہ لیتی ہے جس کے بعد اسے صدر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔دستاویز کے مطابق انتہائی غیر معمولی حالات میں مطلوب ترین دہشتگرد پر ڈرون حملے سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اس میں کسی عام شہری کی ہلاکت نہ ہو۔پی پی جی میں یہ بھی لکھا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے کرنے سے قبل دوسرے ممالک کی خودمختاری کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔واضح رہے کہ اے سی ایل یو نے امریکی حکومت پر خفیہ ڈرون پروگرام کی تفصیلات کے حوالے سے کیس کررکھا تھا جس کے بعد حکومت کو تفصیلات جاری کرنی پڑیں۔
اے سی ایل یو کے ڈپٹی لیگل ڈائریکٹر جمیل جعفر کہتے ہیں کہ پی پی جی ان پالیسیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتی ہے جن کی وجہ سے ہزاروں جانیں گئیں اور اس بیوروکریسی پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو اوباما انتظامیہ نے ان پالیسیوں کو نافذ کرنے کیلئے قائم کررکھی ہے۔پی پی جی کی اشاعت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا میں صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں اور جلد ہی یہ تمام اختیارات کسی نئے صدر کے پاس چلے جائیں گے۔واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے بھی 2009 سے 2015 تک ہونے والے ڈرون حملوں کی تفصیلات جاری کی تھیں اور بتایا تھا کہ اس دوران 473 حملے ان علاقوں میں کیے گئے جہاں جنگ جاری نہیں تھی۔امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں 64 سے 116 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار 581 سے زائد جنگجو مارے گئے تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کم بتاتی ہے۔
نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکی حکومت کو عوام کے سامنے انسداد دہشتگردی کے آپریشنز، ان کے طریقہ کار اور نتائج کے حوالے سے شفاف ہونا چاہیے۔امریکی ٹی وی سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر کسی مشتبہ امریکی شہری یا امریکا میں رہنے والے کسی شخص کو نشانہ بنانا ہو تو طریقہ کار تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔اگر صدر کے اعلیٰ قومی سلامتی کے عہدے داروں کے درمیان امریکی شہری کو ہدف نامزد کرنے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہو تو یہ معاملہ صدر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔امریکی شہری کو نشانہ بنانے سے قبل محکمہ انصاف کی جانب سے اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کارروائی قانونی اور آئینی ہو۔کسی بھی دہشتگرد ٹارگٹ پر حملے کی منظوری کیلئے ضروری ہے کہ یہ بات ثابت کی جائے کہ وہ شخص اور اس کی سرگرمیاں امریکا اور اس کے شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…