بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے شہرمیں جائیداد کی قیمتوں میں پانچ گنا سے زائد اضافہ

datetime 3  اگست‬‮  2016 |

کراچی()وفاقی حکومت نے کراچی میں جائیداد کی قیمتوں میں پانچ گنا سے زائد اضافہ کردیاہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی کو جائیداد کی قیمتوں کے لیے پانچ کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اے ون کیٹگری میں کمرشل پلاٹ کی قیمت ایک لاکھ ، رہائشی پلاٹ کی قیمت 21 ہزار روپے فی گز مقرر کی گئی ہے۔ کیٹگری ون میں کمرشل پلاٹ کی قیمت 75 ہزار اور رہائشی پلاٹ کی قیمت 20 ہزار روپے گز مقرر کی گئی ہے۔ کیٹگری دو میں کمرشل پلاٹ کی قیمت 60 ہزار، رہائشی پلاٹ کی قیمت 10 ہزار روپے گز مقررکی گئی ہے۔ کیٹگری تین میں کمرشل پلاٹ کی قیمت 25000 رہائشی 6 ہزار روپے فی گز ہوگی کیٹگری چار میں کمرشل پلاٹ کی قیمت 40 ہزاراور رہائشی 5 ہزار روپے فی گز ہوگی۔ کمرشل کیٹگری اے ون میں عبداللہ ہارون روڈ، آئی آئی چندریگڑ روڈ، شاہراہ فیصل، بمبئے بازار، بوہڑی بازار، جوڑیا بازار، کوئینز روڈ، صرافہ بازار اور زیب النسا اسٹریٹ شامل ہیں۔
رہائشی کیٹگری اے ون میں کلفٹن، ڈیفنس، گزری، سول لائنز، گارڈن، کے ڈی اے سوسائٹی، سندھی مسلم سوسائٹی اور کمرشل میں برنس روڈ، بندر روڈ، گارڈن ، گلشن اقبال، ڈیفنس، صدر، شاہراہ لیاقت، ایم اے جناح روڈ جمشید کوارٹر شامل ہیں۔ کمرشل کیٹگری دو میں ملیر کینٹ، ایف بی ایریا، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، رنچھوڑ لائن اور سولجربازار شامل ہیں۔ ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ان قیمتوں کو مسترد کردیا ہے۔ سٹیٹ ایجنسٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے جائیداد کی خریدو فروخت پر ٹیکس دوگنے کردیئے ہیں۔پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے مالدار طبقے کے ساتھ مذاکرات کرکے عام آدمی کے لیے پلاٹ خریدنا مشکل کردیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…