بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سیکیورٹی گارڈ کی غفلت، ایگریکلچرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے گارڈ کو مرغا بنا دیا

datetime 30  جولائی  2016 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)پیر مہر علی شاہ ایگریکلچرل(زرعی)یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلرنے مبینہ طور پرناقص سکیورٹی اور فرائض سے غفلت پر19 سال سے یونیورسٹی میں تعینات سکیورٹی گارڈکو مرغا بناکر سرعام جسمانی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس سے دیگر ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی واقعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے صبح 8 بجے اپنے گارڈ کے ہمراہ اچانک یونیورسٹی کا دورہ کیا تو انہیں کینٹین کے قریب دو غیر طلبالڑکے نظرآئے جنہوں نے استفسار پر بتایا کہ وہ سیر کیلئے یہاں آئے ہیں جس پر وائس چانسلر غصے کی حالت میں مین گیٹ پر گئے اور مین گیٹ پر تعینات اعتبار ستی نامی سیکورٹی گارڈ کو سرعام مرغا بنوایا اور ایک سکیورٹی سپروائزر کو چھترول کرنے کیلئے کہا جس نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو وی سی نے اپنے ساتھ موجود گھر کی سکیورٹی پر تعینات مصطفےٰ نامی سکیورٹی گارڈ سے اعتبار ستی کی چھترول کروائی ،تشدد کا نشانہ بننے والے گارڈ نے لاکھ منت سماجت کی لیکن کوئی اس کو بچانے کیلئے آگے نہ بڑھابعد ازاں وی سی نے سکیورٹی گارڈ کو مین گیٹ سے ہٹاکر ایڈمن بلاک کے ارد گرد تعیناتی کا حکم صادر کیا اور کہا کہ یہ گارڈ مجھے نظر نہیں آنا چاہئے ادھر یونیورسٹی ملازمین نے واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
یونیورسٹی ملازمین کا موقف ہے کہ غفلت ثابت ہونے پر گارڈ کے خلاف کوئی بھی محکمانہ کاروائی کی جا سکتی تھی لیکن وائس چانسلر نے ایسا کر کے ملازمین کی توہین کی ہے جبکہ یونیورسٹی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیر افسران و ملازمین بھی وی سی کے متعصبانہ اور پرتشدد روئیے سے سخت پریشان ہیں ادھریونیورسٹی کے انتظامی ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اندر آزادانہ طور پر بیٹھے جوانوں سے دریافت کیا کہ داخلے کے وقت انہیں مرکزی گیٹ پر کسی نے نہیں روکا تو نوجوانوں نے جواب دیا وہاں گارڈ موجود تھا لیکن وہ اپنے موبائل فون پر مصروف تھااور ہم اندر آگئے جس پر وائس چانسلر سیدھے مین گیٹ پر گئے تو ڈیوٹی پر موجود گارڈفون پر ہی مصروف تھا جس پرانہوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا اوراسے سزامحض اس لئے دی گئی کہ مستقبل میں اس قسم کی غفلت کے باعث پشاور یونیورسٹی یا آرمی پبلک سکول جیسا کوئی سانحہ پیش نہ آئے اور سکیورٹی پر مامور عملہ اپنی ڈیوٹی کی اہمیت سے آگاہ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…