اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بھارتی وزیر خارجہ کی ہرزہ سرائی کا جواب،پاکستان کا نہلے پہ دہلہ ،بھارت کوآئینہ دکھادیا

datetime 24  جولائی  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پورے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیئے جانے کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کشمیر کے عوام کر سکتے ہیں بھارتی وزیر خارجہ نہیں ٗ پاکستانی حکومت اور عوام کشمیریوں کی اخلاقی ٗ سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی ٗ اقوام متحدہ ٗ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم رکوانے کیلئے اپنا کر دارادا کریں ۔اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیربرائے خارجہ امور سشما سوراج کی طرف سے دیئے گئے بیان کہ پورا جموں وکشمیر بھارت کی ملکیت ہے اور کشمیر کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکے مستقبل کے حوالے سے اس طرح کا فیصلہ صرف جموں و کشمیر کے عوام کر سکتے ہیں بھارتی وزیر خارجہ نہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے عوام کو یہ حق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ بھارت جموں وکشمیر کے عوام کو یہ حق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے دے ۔سرتاج عزیز نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی اکثریت جب پاکستان کے ساتھ شامل ہونے یا بھارت کے ساتھ شامل ہونے سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر دے گی تو پوری دنیا کشمیری عوام کے اس فیصلے کو تسلیم کریگی ۔بھارتی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے برہان مظفر وانی کو شہید قرار دینے کے بیان پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہاتھا کہ بھارت کی نظر میں وہ ایک دہشتگرد تھاسرتاج عزیز نے کہاکہ بھارت ایک بار پھر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ پورے مقبوضہ کشمیر کے پچاس سے زائد مقاما ت پر سخت کرفیو کے باوجود برہان مظفر وانی کی نماز جنازہ میں دو لاکھ سے زائد کشمیریوں نے شرکت کی اور یہ کرفیو ابھی جاری رہے جبکہ برہان مظفر وانی کے ماروائے عدالت قتل کو پندرہ روز گزر چکے ہیں ۔مشیر خارجہ نے کہاکہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے جیسا کہ ایک بھارتی ادیب نے ہمیں یادلایا کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب انگیز وں نے بھارتی مجاہدین کو غدار اور دہشتگرد قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت بھارت برطانوی سلطنت کا اٹوٹ انگ سمجھا جاتا تھا ۔سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کی اخلاقی ٗ سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور وہ کشمیریوں کی اپنی حق خود ارادیت کی جدوجہد اور مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے حامی ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ ٗ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم رکوانے کیلئے اپنا کر دارادا کریں ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف بھارت کے اندر سے بھی با ضمیر آوازیں اٹھ رہی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…