ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ترکی،صورتحال میں حیرت انگیز شدت، ہزاروں نجی سکولوں اور تنظیموں کیخلاف بڑا اقدام

datetime 23  جولائی  2016 |

استنبول( آن لائن )ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں ایک ہزار نجی سکولوں اور 1,200 سے زائد تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کسی شخص کو فرد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق صدر ادوغان نے کسی بھی شخص کو بغیر عذر بتائے حراست میں رکھنے مدر چار دن سے بڑھا کر 30 دن کر دی ہے۔گذشتہ جمعے کو ترکی میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ ناکام ہو گئی اور ناکام بغاوت کے بعد حکومت کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔خیال رہے کہ ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق صدر طیب اردوغان نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو موقع ملے گا کہ وہ ناکام بغاوت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹ سکیں اور ملک میں حالات کو معمول پر لا سکیں۔گذشتہ ہفتے کے دوران حکام نے جن افراد کے خلاف کارروائیاں کی ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق وزارت تعلیم، پرائیویٹ سکولوں یا یونیورسٹیوں سے ہے جن میں یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ گذشتہ دنوں میں حراست میں لیے جانے والے 60 ہزار افراد میں ہزاروں سپاہی، پولیس اہلکار اور دیگر سرکاری ملازمین شامل تھے، تاہم ان میں سے ان سینکڑوں فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے جنھیں جبری بھرتی کیا گیا تھا۔ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق سنیچر کو جن سکولوں اور تنظیموں کو بند کرنے کا حکام دیا گیا ہے ان کے بارے میں حکومت کو شک ہے کہ فتح االلہ گولن کے ساتھ روابط ہیں۔ان کے علاوہ جن دیگر اداروں یا تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں مزدوروں کی 19 تنظیمیں، 15 یونیورسٹیاں، 35 طبی ادارے اور ہوسٹل شامل ہیں۔حالیہ پابندیوں کے حوالے سے صدر ادوغان کو فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، لیکن اپنے ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کا کہنا ہے کہ ’صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاری ہے جن کے بارے میں سو فیصد یقین ہے کہ بغاوت کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…