بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

ہر بار جادوئی گیند سے وکٹ نہیں ملتی ٗیاسر شاہ کی بولنگ کی سب سے خاص بات قدرتی تنوع ہے ٗمصباح الحق

datetime 19  جولائی  2016 |

لندن (این این آئی)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ہر بار جادوئی گیند سے وکٹ نہیں ملتی ۔ایک انٹرویو میں مصباح الحق نے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ بیٹسمینوں نے غلطیاں کیں اور آؤٹ ہوئے تو اس کا کریڈٹ یقیناًیاسر شاہ کو جاتا ہے جنھوں نے بیٹسمینوں کو ان غلطیوں پر مجبور کیا۔انھوں نے کہا کہ تمام ذہین بولر ایسا ہی کرتے ہیں کہ درست لائن پر مسلسل بولنگ کرتے رہتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بیٹسمین ذہنی طور پر تھک جاتا ہے اور تنگ آ کر غلطی کر بیٹھتا ہے ٗانگلینڈ کے بیٹسمینوں کو کوالٹی اسپن کھیلنے کا تجربہ نہیں ۔مصباح الحق نے کہا کہ انھیں یہ بات معلوم تھی کہ لارڈز کی وکٹ پر یاسر شاہ کو زیادہ سپن نہیں ملے گی تاہم انھوں نے مستقل مزاجی سے درست لائن پر بولنگ کی اور بیٹسمین اس لائن کو سمجھنے سے قاصر رہے۔مصباح الحق نے کہا کہ یاسر شاہ کی بولنگ کی سب سے خاص بات قدرتی تنوع ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو لارڈز ٹیسٹ کی جیت کے جوش وخروش کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ یہ صرف ایک ٹیسٹ کی سیریز نہیں بلکہ ابھی تین ٹیسٹ باقی ہیں اور کوشش کرنی ہوگی کہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں جو غلطیاں سامنے آئی ہیں انھیں اگلے میچوں میں نہ دہرایا جائے۔لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی پیس اٹیک میں شامل تینوں فاسٹ بولرز بائیں ہاتھ کے تھے۔ اس بارے میں مصباح الحق نے کہاکہ ان کا ذہن بالکل واضح تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بیٹسمینوں اور لارڈز کی فلیٹ وکٹ کے سبب تینوں ہی لیفٹ آرم فاسٹ بولر کھلانے تھے۔مصباح الحق نے کہاکہ محمد عامر اور راحت علی کا انتخاب نئی گیند کے بولروں کے طور پر یقینی تھا ٗ تیسرے لیفٹ آرم بولر وہاب ریاض بھی 140 اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ یہ بولر گیند کو دونوں طرف موو کرسکیں اورپھر جب دوسری اننگز میں گیند ریورس سوئنگ ہوتو ایسی صورت میں تیز رفتار بولر زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ وہ اس وقت زیادہ فکر مند ہوگئے تھے جب راحت علی اور وہاب ریاض بولنگ کرتے ہوئے ڈینجر زون میں آرہے تھے ٗاس مرحلے پر وہ اپنے کسی بھی بولر کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ ان دونوں بولروں کو آئندہ دنوں میں اس پر توجہ دینی ہوگی کہ امپائروں کو انھیں تنبیہ کرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ جب کسی بولر کو بولنگ کرتے ہوئے وکٹ پر آجانے کے سبب وارننگ ملتی ہے تو کپتان کی توجہ اصل چیزوں سے ہٹ جاتی ہے اوراس پر اضافی دباؤ آ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…