جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

’’مارشل لاء‘‘ اگلے چند دنوں میں سسٹم کو لپیٹا جا سکتا ہے۔۔۔ دفاعی تجزیہ نگار کے دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 13  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر دفاعی تجزیہ نگار نے اہم دعویٰ کر دیا۔ پاکستان کے اہم شہروں پر مارشل لاء کی دعوت والے بینرز ، حکومتی خاموشی اور بیڈ گورننس وجہ بن سکتی ہے۔آنے والے چند دنوں میں سسٹم کو لپیٹنے کا ماحول بن سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل (ر) ریاض الدین شیخ نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ریاض الدین شیخ نے کہا اب تک جتنے بھی آرمی چیفس کو توسیع ملی ہے اس سے ادارے کو نقصان پہنچا ہے۔
سینئر دفاعی تجزیہ نگار نے کہا کہ سڑکوں پر لگنے والے بینرز بارے تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ریاض الدین شیخ نے کہا کہ جب امریکی سینیٹر جان مکین سے یہ بیان منسوب کیا گیا تھا کہ ’جنرل راحیل شریف کا سسٹم چلانے میں بہت اہم کردار ہے اور ان کا اس سسٹم کے ساتھ رہنا بہت ضروری ہے۔‘ تو آرمی چیف نے یہ جواب دیا تھا کہ میرے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔سسٹم ادارے نے چلانا ہے اور وہ چلائے گا۔ ریاض الدین شیخ نے کہا کہ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں میں بے اطمینانی پھیلی ہوئی ہے۔ اس طرح کا ماحول بن سکتا ہے کہ سارا سسٹم ہی لپیٹ دیا جائے ، ضروری نہیں کہ ایسا راحیل شریف کے عہد ملازمت میں ہو ۔ اس دوران یا ان کے بعد بھی مارشل لاء لگ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…