اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جزائر کی ملکیت کاتنازعہ،پاکستان چین کی حمایت میں کھل کرسامنے آگیا،بڑا اعلان

datetime 11  جولائی  2016 |

اسلا م آباد(آئی این پی )قومی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے پیر کو کہا کہ پاکستان اور چین کی تقدیر مشترک ہے اور انہوں نے اپنی علاقائی خودمختاری اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لئے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر چین کی حمایت کا اعلان کرنے کے لئے یہاں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کے لئے دونوں ممالک کا مشترکہ مطمع نظر ہے ۔ اس موقع پر تھنک ٹینک ’’101چین کے دوست‘‘نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام جزیرہ نا نشا ا اور اس کے گردونواح کے پانیوں میں اپنی خودمختاری کے حوالے سے بحیرہ جنوبی چین کے بارے میں چین کی جانب سے اختیار کئے جانے والے موقف کی مکمل کرتے ہیں ۔ قرارداد میں اس بات پر زوردیا گیا کہ اس مسئلے کو متعلقہ فریقین کو دوطرفہ چینلوں کے ذریعے پر امن طور پر حل کرنا چاہیے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ثالثی کی مستقل عدالت کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے معاملات کو سختی سے نمٹائے اور اس کی رولنگ، کشیدگی اور تنازعات کو ہوا دینے کا باعث نہیں بننی چاہیے۔ قرارداد میں اس ضرورت پر بھی زوردیا گیا کہ بین الاقوامی ثالثی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔اس قرارداد کا مقصد بحری خودمختاری کے مسئلے پر چین کے عوام کی حمایت اور یکجہتی کا پیٖغام بھیجنا ہے ۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر چین کے ساتھ ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لاؤلی جیان نے اس اہم مسئلے پر جس کا تعلق خطے میں امن وسلامتی سے ہے۔ متفقہ حمایت کرنے پر فرینڈز آف چائنہ کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ انہوں نے شرکاء کو تاریخی تناظر میں مسئلے سے آگاہ کیا اور کہا کہ جزیرہ نشنشا برسوں سے چین کا اٹوٹ انگ رہا ہے تاہم 1970کے بعد سے اسے مضموم مفادات کے تحت تنازعہ کے طور پر کھڑا کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ چین اس ضمن میں نام نہاد ہیگ ٹریبیونل کا فیصلہ قبول نہیں کرے گا ۔ امریکہ پر نقطہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندری پانیوں میں طیارے بھیج کر اور طاقت کے مظاہرے سے چین کو ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا ۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے اپنے خطاب میں چین پاکستان اقتصادی راہداری( سی پیک) کی اہمیت کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ چین کے دنیا کے باقی حصوں بالخصوص وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ چین کی مربوطییت کے منصوبے کے لئے گیٹ وے کے طور پر تبدیل کرنے کیلئے پاکستان کو زبردست موقع فراہم کرتا ہے ۔ یہ پاکستان کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اقتصادی انضمام کی راہداری بن رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنے عوام کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے مل جل کر کام کرتے رہیں گے ۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بحیرہ جنوبی چین جیسے مسائل کو متفقہ فریقین کے درمیان باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد چین کو محدود کرنا ہے ۔ تقریب میں دیگر کے علاوہ سابق وفاقی سیکرٹریوں اور چین میں پاکستان کے سابق سفراء نے بھی شرکت کی۔ 101فرینڈز آف چائنہ کے صدر زاہد ملک نے کہا کہ ان کے گروپ کو بحیرہ جنوبی چین اور باہمی دلچسپی کے دیگر مسائل پر چین کے لئے زیادہ سے زیادہ حمایت کرنے کیلئے سرگرم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…