اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی 1928ء میں بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیداہوئے اور تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔عبدالستارایدھی نے65 برس دکھی انسانیت کی خدمت کی، دکھی انسانیت کی خدمت کا آغاز 1951ء میں ایک ڈسپنسری قائم کرکے کیا۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی پوری زندگی انتہائی سادگی کے ساتھ گزاری۔ 1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت ادویات فراہم کئیں۔ اس موقع پر مخیر حضرات نے دل کھول کر ایدھی کی مدد کی۔ امدادی رقم سے ایدھی نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری قائم کی تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا اور یہی ایدھی فانڈیشن کا آغاز تھا۔ کراچی میں فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو کثیر رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔
آج ایدھی فانڈیشن کے پاس سینکڑوں ایمبولینسیں ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے تھے۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فانڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول کھولے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ فاونڈیشن دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت سرانجام دی رہی ہے ۔ 16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبری ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فانڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔انسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند دی گئی۔ 1996ء میں ان کی خودنوشت سوانح حیات شائع ہوئی۔ عبدالستار ایدھی کو دکھنی انسانیت کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ دنیا میں سب سے بڑی رضا کارانہ ایمبولینس آرگنائزیشن کے قیام پر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کیا۔
ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں پاکستانی حکومت نے انہیں نشان امتیاز دیا۔ پاک فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر کے اعزاز سے نوازا جبکہ 1992ء میں حکومت سندھ انہیں سوشل ورکرآف سب کونٹی ننیٹ کا اعزاز دیا۔ بین الاقوامی سطح پر 1986ء میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈدیا۔ 1993ء میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلودیاگیا۔ 1988ء میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔ عبدالستار ایدھی کے گردے کئی سال قبل ناکارہ ہوگئے تھے اور سندھ انسٹیٹوٹ آف یورولوجی (ایس آئی یو ٹی) میں باقاعدگی سے ڈائیلسز کیا جارہا تھا۔ جمعہ کی شب عبدالستار ایدھی انتقال کرگئے۔
عبد الستار ایدھی کون تھے؟ کہاں پیدا ہوئے؟ کیا کرتے رہے؟ عظیم ترین انسان کی زندگی پر مفصل رپورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)
-
ایرانی ریال کی پاکستان میں تازہ ترین قیمت
-
بیرون ملک جانے والوں کے لیے بڑی پابندی، سفر سے پہلے یہ کام لازمی ہوگیا
-
لاہور میں فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں کی پولیس کو کال، ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشمہ کی لاش برآمد
-
دبئی جانے والے پاکستانیوں سمیت غیرملکی کارکن ہوشیار، نیا قانون سامنے آگیا
-
وہ عام پھل جسے کھانا عادت بناکر بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچنا ممکن ہے
-
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
-
گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
محکمہ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی
-
سرفراز احمد کو کوچنگ سے کیوں ہٹایا گیا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے
-
عوام پر مزید بوجھ، ملک بھر میں بجلی نیٹ ورک استعمال کرنے کی یکساں قیمت لاگو
-
نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اہم خبر، حکومت نے بڑی سہولت متعارف کرا دی
-
اب چند منٹ میں ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں! بڑی خبر آگئی
-
بڑی کے ہاتھوں چھوٹی بہن کا قتل، ملزمہ کو ورثا نے معاف کردیا



















































