منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

عطیات و صدقات کے ذریعے چلنے والے اداروں میں ’’غیر صحتمندانہ سرگرمیاں ‘‘ پرویز رشید نے سنگین دعویٰ کردیا

datetime 2  جولائی  2016 |

لاہور (این این آئی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عطیات و صدقات کے ذریعے چلنے والے اداروں میں غیر صحتمندانہ سرگرمیاں تو نہیں ہوتیں لوگ اسے جانچیں اور یہ بھی پتہ کریں کہ وہاں سے خود کش جیکٹس تو برآمدنہیں ہوتیں ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی تعلیم تو نہیں دی جاتی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سندس فاؤنڈیشن میں تھیلیسمیا کے مریض بچوں کے ساتھ افطارڈنر میں شرکت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر منو بھائی ، واصف ناگی ، سہیل وڑائچ ، خاورنعیم ہاشمی ، عطاء الرحمن ، ایاز خان ، خالد عباس ڈار، ڈاکٹر صغریٰ صدف، نجم ولی خان ، محمد شہباز میا ں ، شاداب ریا ض اور ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی اعجاز حسین سمیت دیگر بھی مو جود تھے ۔ وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ درد دل رکھنے والے لو گ فلاح و بہبود کیلئے کام کر نیوالے اداروں کو وسائل مہیا کرتے ہیں لیکن ان کی نیک خواہشات کو منفی کاموں کیلئے استعمال کر لیا جاتا ہے جس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے اور ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ فلاح وبہبود کیلئے کام کرنیوالے اداروں نے لو گوں کی طرف سے دئیے جانیوالے عطیات و صدقات کا ایسے کاموں کیلئے بھی استعمال کیا کہ اس سے بدی پھیلی اور لوگوں کے دکھ درد میں اضافہ ہوا۔ اس لیے آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ لوگ عطیات و صدقات کے ذریعے چلنے والے اداروں کو جانچیں کہ وہ کیا کام کر تے ہیں ، وہاں واقعی ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کرنے اور دوسروں کے دکھوں کو کم کرنے کی تعلیم دی جا تی ہے یا وہاں دوسروں کے دکھوں کو بڑھانے اور انتہاپسندی کی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہاں کے بچے خود کش جیکٹس پہن لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ صدقات و عطیات ایسے اداروں کو فراہم کریں کہ جو انسانی زندگیوں کیلئے خطرے کی بجائے ان کے تحفظ کی ضمانت ہوں اور وہاں غیر صحتمندانہ کی بجائے صحتمندانہ سرگرمیاں ہوتی ہوں ، وہاں سے خود کش جیکٹس برآمد نہ ہوتی ہوں ، وہاں فرقہ واریت کی تعلیم نہ دی جا تی ہو، وہ ادارے دولے شاہ کے چوہے پیدا نہ کرتے ہوں جنہیں دہشت گردی کے سوا کچھ اور یاد نہیں رہتا ۔لہٰذا اپنی زکوۃ ، صدقات اور عطیات دیتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ حق حقدار کو ہی دیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…