ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دس کروڑ برس پرانے پرندے دریافت

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/ محمد نعیم)سائنس دانوں نے انکشاف کیا تھا کہ بڑے گوشت خور ڈائنوسار گذشتہ پانچ کروڑ برسوں میں سکڑ سکڑ کر پرندے بن گئے ہیں۔ تھیروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار 12 گنا سکڑ کر 163 کلو سے 800 گرام تک گھٹ کر پرندے بن تھے۔سائنس دانوں نے دریافت کی کہ تھیروپوڈ وہ واحد ڈائنو سار تھے جو مسلسل سکڑتے رہے۔ ان کے ڈھانچے چار گنا زیادہ تیزی سے تبدیل ہوئے جس سے انھیں اپنی نسل کی بقا میں مدد ملی۔اس نسل کے ڈائنوساروں میں ٹی ریکس اور ویلوسی ریپٹر جیسے معروف ڈائنوسار شامل تھے۔یہ تحقیق چند برس قبل ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔
اب اس تحقیق میں پیشرفت ہوئی ہے کہ ڈائنوسار کے زمانے کے پرندوں کے دو پر عنبر کے اندر محفوظ حالت میں دریافت ہوئے ہیں۔ نیچر کمیونیکیشن نامی جریدے کے مطابق میانمار میں کی جانے والی یہ شاندار دریافت ننھے پرندوں کی باقیات پر مشتمل ہے جو تقریبا دس کروڑ برس قبل ایک استوائی جنگل میں درختوں سے نکلنے والی لیس دار رال میں پھنس کر رہ گئے تھے۔پرندوں کے پروں کی باریک تفصیلات عنبر میں محفوظ ہو گئی ہیں، جن میں دھاریوں اور دھبوں کے رنگ بھی شامل ہیں۔پروں میں تیز پنجے بھی ہیں، جن سے ان ننھے پرندوں کو درختوں کی ڈالیاں پکڑنے میں مدد ملتی ہو گی۔یہ فاسل دو سے تین سینٹی میٹر کے درمیان ہیں، اور ان کی مدد سے ڈائنوساروں سے پرندوں کے ارتقا پر روشنی پڑ سکتی ہے۔تحقیق کے شریک مصنف مائیک بینٹن کا تعلق برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل سے ہے۔
انکی تحقیق کے مطابق انفرادی پروں میں ہر بال اور ریشہ صاف دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ اڑنے میں مدد دینے والے پر ہوں یا جسم پر بال۔ اور ان میں رنگوں، دھبوں اور دھاریوں کا شائبہ بھی ہے۔پرندوں کی یہ نوع ڈائناساروں کے ساتھ ہی 6.6 کروڑ سال پہلے معدوم ہو گئی تھی۔سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے قدیم بیالوجسٹ سٹیو بروسیٹ نے بتایاکہ یہ شانداردریافت ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دس کروڑ برس پرانے پر عنبر میں محفوظ رہ سکتے ہیں؟ان کا شمار ان حیرت انگیز ترین فاسلز میں ہوتا ہے جو میں نے دیکھے ہیں۔ ہمیں کئی عشروں سے معلوم ہے کہ کئی ڈائنوساروں کے پر ہوا کرتے تھے، لیکن زیادہ تر پروں کے نشان چونے کے پتھروں پر کندہ تھے۔عنبر میں محفوظ ان پروں کی مدد سے ایک بالکل نیا تناظر مل گیا ہے اور ان سے صاف طور پر معلوم ہوا ہے کہ پرندے ڈائنوساروں کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔
اور ان کے پر موجودہ پرندوں کے پروں سے بہت ملتے جلتے ہیں۔عنبر کے اندر پنجوں کے کھرونچوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ پرندے عنبر میں پھنسے تو اس وقت زندہ تھے۔ڈاکٹر شی لینڈ کہتے ہیں کہ یہ پرندے چھوٹی جسامت اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے عنبر میں پھنس کر رہ گئے۔عنبر کے دوسرے نمونوں میں ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پرندے اس لیس دار مادے سے بچ کر رہا کرتے تھے یا پھر اپنے آپ کو پھنسنے سے پہلے ہی نکال لیا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…