منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی انعام یافتہ سائنسدان کی ایسی حرکت جس پر کسی کو یقین نہ آئے، کلک کر کے جانیں

datetime 20  فروری‬‮  2015 |

نئی دہلی….. نوبل امن انعام یافتہ مشہور ماحولیاتی سائنسدان اور ہندوستان کے توانائی اور وسائل کے ادارے ٹیری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجندر کمار پچوری کے خلاف اسی ادارے کی خاتون ریسرچ اینالسٹ نے جنسی طور پر ہراسان کرنے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ لودھی کالونی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے خاتون کا بیان لینے کے بعد ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

ٹیری میں بطور ریسرچ اینالسٹ کام کرنے والی 29 سالہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ پچوری نے انہیں ای میل اور واٹس ایپ پر قابل اعتراض پیغامات بھیجے تھے۔

پولیس کے مطابق، مذکورہ خاتون نے پچوری کو کئی مرتبہ اس حرکت پر تنبیہ کی، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آئے۔ چنانچہ انہوں نے 13 فروری کو پولیس میں شکایت کی، اور 18 فروری کو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مذکورہ خاتون نے 9 فروری کو اس معاملے کی شکایت ٹیری میں بھی کی تھی، لیکن وہاں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

متاثرہ خاتون نے 33 صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں تحریر کیا ہے کہ ستمبر 2013 میں ٹیری میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد ہی پچوری کی جانب سے اس طرز کے میسیجز ملنے لگے تھے، لیکن ملازمت ہاتھ سے چلے جانے اور بدنامی کے ڈر سے وہ خاموش رہیں۔

یاد رہے کہ آر کے پچوری ماحولیاتی تبدیلی سمیت ماحولیات سے منسلک تمام اداروں اور فورم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماحولیاتی خطرات پر ہندوستان کے سرکاری اداروں کے ایک باہمی پینل کے صدر بھی ہیں۔

ان الزامات کی تفصیلات جاننے کے لیے جب ہندوستانی اخبار اکنامک ٹائمز کے نمائندے نے ڈاکٹر آر کے پچوری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا ’’آپ کے سوال کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ میری اجازت اور رضامندی کے بغیر میرے کمپیوٹر اور کمیونیکیشن ڈیوائسز کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…