اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے‘ سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چار ممبر الیکشن کمیشن بنائیں گے اور بنا بھی دیئے ، جب الیکشن کمیشن کے ممبر بن گئے تو یہ بات طے ہونا تھی کہ ان کی تنخواہیں اور مراعات کیا ہوں گی۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے درجنوں خطوط وزیر اعظم ، وزارت قانون و وزارت خزانہ کولکھے گئے۔ 11 جون 2011 ء کو الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری ہوئی اور 2016 ء میں ان کے 5 سال پورے ہو گئے اور وہ گھر بھی چلے گئے لیکن ان 5 سالوں میں کوئی ایسا قانون نہیں بنا کہ ان کو کس قانون کے تحت تنخواہیں دینی ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا الیکشن کمیشن کے ممبران ان سابق ججوں کی تنخواہوں کا معاملہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونا تھا لیکن یہاں سے اصل ڈرامہ شروع ہوا جس میں الیکشن کمیشن نے خود AGPR کو خط لکھا کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں اور یہ بھی خود لکھ کر دے دیا کہ ہمیں کتنی تنخواہ چاہئے، کتنی مراعات اور کتنے الاؤنسز وغیرہ وغیرہ۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک ایک سابق جج ممبر نے ساڑھے 8 لاکھ روپے ماہانہ کا اپنی تنخواہ کا پیکج بنایا اور لکھ کر AGPR کو بھیج دیا۔ AGPR نے معاملہ آگے وزارت قانون کو بھیج دیا ۔ وزارت قانون سے جواب آیا کہ ان ججوں کو تنخواہوں کا بل ابھی منظور نہیں کرنا ، ان پر تلوار لٹکائے رکھیں اور ان تمام ججوں سے لکھوا لیں کہ جب تک بل پاس نہیں ہوگا ہم آپ کو پرویژنل تنخواہ دیتے رہیں گے یعنی وہی ساڑھے 8 لاکھ روپے تنخواہ جو آپ چاہتے ہیں آپ کو ملتی رہے گی اور اگر بل پاس نہ ہوا تو آپ کو یہ تنخواہ واپس جمع کروانی ہوگی۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس سے قبل یہ ایک ایک جج اپنی 8 لاکھ روپے ماہانہ پنشن اور ساڑھے 8 لاکھ روپے یعنی تقریباََ 16 لاکھ سے زائد رقم ماہانہ وصول کرتے رہے ہیں۔ججوں نے حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ اگر پارلیمنٹ نے بل منطور نہ کیا تو ہم 8 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے تنخواہ واپس کر دیں گے اور اس طرح بغیر قانون کے یہ جج ممبران الیکشن کمیشن 5 سال تک تنخواہیں لیتے رہے ۔ ان تمام جج ممبران کو تنخواہیں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی طور نہیں دی جا سکتی تھی۔ انہیں غیر قانونی تنخواہیں دی گئیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ان سب ججوں کو تنخواہوں کے واپس لئے جانے کا ڈراوا دے کر ان سے اپنے حق میں فیصلے کروائے جاتے رہے۔ عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ میرا الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ اسمبلی میں نہیں جاتے، کمیٹیوں میں نہیں بیٹھتے ۔ عمران خان کو چاہئے کہ پارلیمنٹ جایا کریں اور کمیٹیوں میں بیٹھا کریں۔
رؤف کلاسرا نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اب جو نئے ممبران الیکشن کمیشن تعینات کئے جا رہے ہیں ان کا بھی کوئی بل پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا، اور ایک بار پھر وہی گیم کی جانے لگی ہے۔
’عمران خان نے صحیح کہا تھا‘ 2013 ء کے الیکشن کس طرح چرائے گئے؟ سینئر تحقیقاتی صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی، نئی تحقیق
-
موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر ک...
-
بالی ووڈ اداکارہ کا اکشے کمار سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا



















































