منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

’عمران خان نے صحیح کہا تھا‘ 2013 ء کے الیکشن کس طرح چرائے گئے؟ سینئر تحقیقاتی صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے‘ سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چار ممبر الیکشن کمیشن بنائیں گے اور بنا بھی دیئے ، جب الیکشن کمیشن کے ممبر بن گئے تو یہ بات طے ہونا تھی کہ ان کی تنخواہیں اور مراعات کیا ہوں گی۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے درجنوں خطوط وزیر اعظم ، وزارت قانون و وزارت خزانہ کولکھے گئے۔ 11 جون 2011 ء کو الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری ہوئی اور 2016 ء میں ان کے 5 سال پورے ہو گئے اور وہ گھر بھی چلے گئے لیکن ان 5 سالوں میں کوئی ایسا قانون نہیں بنا کہ ان کو کس قانون کے تحت تنخواہیں دینی ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا الیکشن کمیشن کے ممبران ان سابق ججوں کی تنخواہوں کا معاملہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونا تھا لیکن یہاں سے اصل ڈرامہ شروع ہوا جس میں الیکشن کمیشن نے خود AGPR کو خط لکھا کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں اور یہ بھی خود لکھ کر دے دیا کہ ہمیں کتنی تنخواہ چاہئے، کتنی مراعات اور کتنے الاؤنسز وغیرہ وغیرہ۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک ایک سابق جج ممبر نے ساڑھے 8 لاکھ روپے ماہانہ کا اپنی تنخواہ کا پیکج بنایا اور لکھ کر AGPR کو بھیج دیا۔ AGPR نے معاملہ آگے وزارت قانون کو بھیج دیا ۔ وزارت قانون سے جواب آیا کہ ان ججوں کو تنخواہوں کا بل ابھی منظور نہیں کرنا ، ان پر تلوار لٹکائے رکھیں اور ان تمام ججوں سے لکھوا لیں کہ جب تک بل پاس نہیں ہوگا ہم آپ کو پرویژنل تنخواہ دیتے رہیں گے یعنی وہی ساڑھے 8 لاکھ روپے تنخواہ جو آپ چاہتے ہیں آپ کو ملتی رہے گی اور اگر بل پاس نہ ہوا تو آپ کو یہ تنخواہ واپس جمع کروانی ہوگی۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس سے قبل یہ ایک ایک جج اپنی 8 لاکھ روپے ماہانہ پنشن اور ساڑھے 8 لاکھ روپے یعنی تقریباََ 16 لاکھ سے زائد رقم ماہانہ وصول کرتے رہے ہیں۔ججوں نے حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ اگر پارلیمنٹ نے بل منطور نہ کیا تو ہم 8 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے تنخواہ واپس کر دیں گے اور اس طرح بغیر قانون کے یہ جج ممبران الیکشن کمیشن 5 سال تک تنخواہیں لیتے رہے ۔ ان تمام جج ممبران کو تنخواہیں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی طور نہیں دی جا سکتی تھی۔ انہیں غیر قانونی تنخواہیں دی گئیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ان سب ججوں کو تنخواہوں کے واپس لئے جانے کا ڈراوا دے کر ان سے اپنے حق میں فیصلے کروائے جاتے رہے۔ عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ میرا الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ اسمبلی میں نہیں جاتے، کمیٹیوں میں نہیں بیٹھتے ۔ عمران خان کو چاہئے کہ پارلیمنٹ جایا کریں اور کمیٹیوں میں بیٹھا کریں۔
رؤف کلاسرا نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اب جو نئے ممبران الیکشن کمیشن تعینات کئے جا رہے ہیں ان کا بھی کوئی بل پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا، اور ایک بار پھر وہی گیم کی جانے لگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…