منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے سمیں بنا نے والی کمپنی کے کوڈز چوری کر نے کا انکشاف

datetime 20  فروری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔امریکی ویب سائٹ ’دا انٹرسیپٹ‘ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے فون کالز سننے کے لیے غیر قانونی طور پر سِمیں بنانے والی کمپنی کے نیٹ ورک کو ہیک کیا اور کوڈز چوری کر لیے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی نے 2010 کی پہلی سہ ماہی میں جیملٹو ناما کمپنی کا نیٹ ورک ہیک کیا اور کوڈز چوری کیے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی ایجنسی نے ایران، افغانستان، یمن، بھارت، سربیا، آئس لینڈ اور تاجکستان میں وائرلیس نیٹ ورک ہیک کیے اور فون کالز کو مانیٹر کیا۔تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ برطانوی ایجنسی کے پاس پاکستانی موبائل کمپنی موبی لنک اور ٹیلی نور کے کوڈز تھے لیکن وہ فون کالز سننے میں ناکام رہی۔دا انٹرسیپٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی اموبائل نیٹ ورکس کے کوڈز کی چوری کے باعث دنیا کے زیادہ تر نیٹ ورکس پر فون کالز اور ڈیٹا مانیٹر کر سکتے ہیں۔’اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستانی کمپنیاں نیٹ ورکس اب زیادہ محفوظ طریقے استعمال کرتی ہیں۔‘امریکی ویب سائٹ کے پاس یہ معلومات امریکی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے دی جانے والی خفیہ دستاویزات سے آئی ہیں۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی ان کوڈز کی چوری کے باعث دنیا کے زیادہ تر موبائل نیٹ ورکس پر فون کالز اور ڈیٹا مانیٹر کر سکتے ہیں۔نیدرلینڈز کی سم بنانے والی کمپنی جیملٹو کی بنائی ہوئی سمیں اے ٹی اینڈ ٹی، ٹی موبائل، ویرازن اور سپرنٹ سمیت دنیا بھر کی لگ بھگ 450 موبائل کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…