اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

طورخم میں گیٹ کی تعمیر،اب حملہ ہوا تو ۔۔۔! پاکستان نے افغانستان کوانتباہ کردیا

datetime 18  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد( این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اگر طورخم پر حملہ ہوگا تو اس کا جواب دیا جائے گا ،طورخم پرگیٹ کی تعمیر جاری رہے گی کیونکہ اس گیٹ کی تعمیر سے نہ تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی قانون کے منافی کام کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو میں کیا ۔سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ جب تک افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کا کوئی نظام قائم نہیں ہو جاتااس وقت تک دہشتگردی، انتہا پسندی اور سمگلنگ جیسے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ سرحد پر دونوں جانب سے آمد و رفت دستاویزات کی مدد سے ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ روزانہ چالیس سے پچاس ہزار افراد اس راستے سے کسی رکاوٹ یا پوچھ گچھ کے بغیر آ جا رہے ہیں اور اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ہم نے افغانستان کو مئی میں بتا دیا تھا کہ یکم جون سے کسی کو دستاویزات کے بغیر سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خارجہ امور کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان چاہتا ہے کہ پاکستان سرحد پر گیٹ کی تعمیر روک دے لیکن ہم گیٹ اپنے علاقے میں بنا رہے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ گیٹ پاکستان کے علاقے میں سرحد سے تیس پینتیس میٹر اندر بنایا جا رہا ہے اور پاکستان اس کی تعمیر جاری رکھے گا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان نے افغانستان کو بتا دیا تھا کہ وہ سرحد پر گیٹ تعمیر کرنے جا رہا ہے تو پھر سرحد پر اتنی کشیدگی اور فائرنگ کا تبادلہ کیوں ہواکا جواب دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کو 2014 ء میں بتا دیا تھا کہ وہ طورخم پر نئی سہولیات متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے لیکن افغانستان نے ہماری اس تجویز کا کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا۔ ان کی جانب سے جو تحفظات سامنے آئے تھے انہیں منصوبے میں شامل کر لیا گیا تھا۔سرتاج عزیز کے بقول سرحد پر دستاویزات کی پابندی جیسے اقدامات دونوں ممالک کے حق میں ہیں کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان سے لوگ بلا روک ٹوک افغانستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ایسا نظام ضروری ہے کیونکہ جب تک سرحد پر انتظامات نہیں کیے جائیں گے، سہولیات نہیں فراہم کی جائیں گی، ہمارے سکیورٹی خدشات قائم رہیں گے اور افغانستان کے خدشات بھی موجود رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…