پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

طاہر القادری نے آتے ہی آرمی چیف سے ایسی بات کہہ دی جس کا سوچا نا تھا ، بڑا مطالبہ کر ڈالا

datetime 15  جون‬‮  2016 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشتگردی کی بڑی مثال ہے ، وطن واپسی کے بعد لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کیا یہ ظلم نہیں کہ دن دیہاڑے کروڑوں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے 14 لوگ شہید کئے گئے ، یہ یقیناً یکطرفہ دہشتگردی تھی ، یکطرفہ قتل عام تھا جو حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان نے قتل عام کروایا تھا۔ لاہور میں باوردی سرکاری لباس میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے اپنے شہریوں کا قتل عام کیا ، طاہر القادری نے کہا کہ یہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلا واقعہ ہے جس میں آج تک مظلوموں کو انصاف نہیں ملا ، ہمارے معصوم کارکنوں کا حکمرانوں نے خود قتل کروایا ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس قتل کی ایف آئی آر درج کروائی مگر ایف آئی آر کے باوجود دو سال میں کسی کو انصاف نہیں ملا۔ طاہر القادری نے کہا کہ انسانوں کو قتل کرنے والے ہی انصاف کو قتل کرنے والے تھے ، ہم نے اس پر احتجاج کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یکطرفہ جے آئی ٹی بنائی گئی ، ایف آئی آر بھی ہمارے گواہوں کیخلاف کاٹی گئی ، سب کچھ فراڈ ہوا ، جو انکوائری کمیٹیاں بنیں ان کی رپورٹ بھی ہمیں نہیں دی گئی ، اس لئے کہ ان کمیٹیوں کی رپورٹ میں درج تھا کہ ہماری طرف سے ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی ، طاہر القادری نے کہا کہ ہمارے پاس اپنے ادارے کی سکیورٹی کیلئے درجنوں لائسنس یافتہ کمانڈو سکیورٹی گارڈ بھی موجود تھے ، اگر ہم جواب دینا چاہتے تو پولیس والوں کی لاشیں بھی گرتیں ، ہمارے لوگوں کی لاشیں گرتی رہیں مگر ہم نے ایک بھی گولی نہیں چلائی ، کیا یہ ظلم نہیں کہ ادارے کے دروازے پر کھڑی خواتین کو بھی گولیاں لگیں ، وزیر اعلیٰ نے اپنی مرضی سے سانحے کی انکوائری کیلئے کمیشن بنا دیا جس نے یکطرفہ رپورٹ بنائی ، شہباز شریف نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن نے مجھے ذمہ دار قرار دیا تو میں مستعفی ہو جاؤں گا ، اس کمیشن نے انہیں مجرم قرار دیا مگر وہ مستعفی نہیں ہوئے۔
طاہر القادری نے کہا کہ میں یہ نہیں جانتا کہ میرے دھرنے کے کتنے دن بعد حکومت ختم ہوجائے گی مگر میں جانتا ہوں کہ یہ حکومت خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے گی۔اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری آٹھ ماہ بیرون ملک قیام کے بعد واپس پاکستان پہنچ گئے،لاہورایئرپورٹ پر کارکنوں نے ان کا پر جوش استقبال کیا۔ڈاکٹر طاہرالقادری کے استقبال کیلئے صبح ہی سے عوامی تحریک کے کارکن جن میں مرد ، خواتین اوربچے شامل تھے لاہورائرپورٹ پر موجود تھے۔ طاہرالقادری کی سیکورٹی کے لیے ایئر پورٹ پر پہلے سے بلٹ پروف گاڑی بھی پہنچا دی گئی تھی۔ان کی آمد کے موقع پر ایئرپورٹ کے اندر اورباہر سیکورٹی کیسخت انتظامات کیے گئے تھے اور انٹرنیشنل ارائیول کو بیریر لگا کربند کردیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے پھر سے دھرنے کی تیاری کے لیے کنٹینر کی صفائی کر لی گئی ہے۔طاہرالقادری دوحہ سے قطرائرلائن کی پرواز کیوآر 628 کیذریعیلاہورپہنچے ہیں۔ ان کے طیارے نے پندرہ منٹ کی تاخیر سے لینڈ کیا۔ڈاکٹر طاہرالقادری ایئرپورٹ سے بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر قافلے کی صورت میں ماڈل ٹاؤن روانہ ہوگئیہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…