پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

حلیمہ قتل کیس نیارُخ اختیارکرگیا، مبینہ ملزم کے بیان نے معاملہ مزید الجھادیا

datetime 10  جون‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی) کراچی میں حلیمہ قتل کیس کا مبینہ ملزم رضوان عدالت میں قتل کے اعترافی بیان سے مکر گیا تاہم عدالت نے اسے 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیاہے۔تفصیلات کے مطابق حلیمہ کے مبینہ قاتل ملزم رضوان کی گرفتاری کے بعد لگا تھا کہ قتل کی گتھیاں سلجھ گئی ہیں لیکن ملزم کی عدالت میں پیشی کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ پولیس کو اعترافی بیان دینے والا رضوان عدالت میں اپنے بیان سے مکر گیا۔ ملزم رضوان نے عدالت کو بیان دیا کہ حلیمہ کا قتل اس کے سوتیلے بیٹے انصر نے کیا ہے۔ سماعت شروع ہوئی تو تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم رضوان نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے جس کے بیان کی روشنی میں گرفتار ملزم کی بیوی سونیا پر جرم ثابت نہیں ہوتا، ملزم کا دفعہ 164 کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا جائے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے رضوان کا اعترافی بیان قلمبند کرانے کے لئے مہلت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم رضوان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔کمرہ عدالت میں ملزم رضوان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رضوان دمہ کا مریض ہے اسے دوا فراہم کی جائے اور حالت بہترہوگی تب ہی وہ بیان دینے کے قابل ہوگا۔ دوران سماعت ملزم رضوان نے اچانک رونا شروع کردیا اور کہتا رہا کہ میری بھی 5 سال کی بیٹی ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آپ روئیں مت اور کسی کے دباؤ میں نہ آئیں، اب آپ کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ صرف حقائق بتائیں جس پر ملزم رضوان نے پولیس کے سامنے حلیمہ کو قتل کے اعترافی بیان سے مکرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولیس سے جان کا خطرہ ہے جس کے بعد عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔دوسری جانب تفتیشی افسر سب انسپکٹر نصر اللہ نے جلد بازی میں ملزم کے ریمانڈ کے ساتھ ہی اعترافی بیان کیلئے درخواست بھی جمع کرا دی۔ غلطی کا احساس ہونے پر تفتیشی افسر نے وکلا صفائی کی منت کرتے ہوئے عدالت سے ملزم کو 3 دن کے ریمانڈ کے ساتھ اسپتال بھیجنے کی استدعا کی۔ وکلا صفائی نے ساتھ نہ دیا تو عدالت نے بھی تفتیشی افسر کو جھاڑ پلا دی۔رضوان کے بیان کے بعد عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ 14 جون کو چالان پیش کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…