پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

مایوس کن بجٹ۔۔ اپوزیشن کا شدید ردعمل ، کیاہونے جارہا ہے ؟ اعلان کر دیا

datetime 4  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اورتحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے بجٹ کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ نئی خواہشات کا مجموعہ اور مایوسیوں کی داستان تھا،حکومت کے پاس نہ ٹیم ہے نہ کوئی سکیم، عوام کے لیے بجٹ میں کچھ بھی نہیں ،پچھلے سال کے بجٹ کے چند اعداد وشمار تبدیل کیے گئے ہیں، یہ کسی بھی طرح سے عوامی بجٹ نہیں،بجٹ میں سب سے زیادہ لفظ ودہولڈنگ ٹیکس استعمال ہوا، جس کا اثر عام عوام پر پڑے گا جاگیرداروں پر نہیں،حکومت ہر منصوبے کا چار چار دفعہ افتتاح کرتی ہے مگر بدقسمتی سے کسی ایک منصوبے پر بھی کام کا آغاز نہیں کر سکی،یوریا کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوئی ہے جس کے مطابق بجٹ میں یوریا کی قیمتیں کم کی گئیں،کسانوں نے سپورٹ پرائس کا مطالبہ کیا تھا وہ تو پورا نئی ہوا،کسانوں کی فصلیں نہیں خریدی جائیں گی تو سبسڈی کا کیا فائدہ، پارٹی رہنماؤں سے مشاورت اور ماہرین کی رائے لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گئے۔وہ جمعہ کو بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بجٹ نئی خواہشات کا مجموعہ اور مایوسیوں کی داستان تھا،بجٹ میں سب سے زیادہ لفظ ودہولڈنگ ٹیکس استعمال ہوا، جس کا اثر عام عوام پر پڑے گا جاگیرداروں پر نہیں، بجٹ میں وڈیروں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا اور عام پاکستانی پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا گیا،جو ہر بجٹ میں حکومتی انتہاء پسندی کا نشانہ بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح حکومت اس سال بھی اپنا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، بجٹ سے قبل ہمیں امید تھی کہ حکومت بجٹ میں کاشتکاروں کو خوشخبری سنائے گی مگر حکومت نے کسانوں کو جو سبسڈی دی وہ اسی طرح ہے جس طرح کسان پیکج تھا۔انہوں نے کہا کہ کسان پیکج میں بھی کاشتکاروں کو 345ارب کا پیکج دیا گیا مگر حقیقت میں وہ کسانوں تک نہ پہنچ سکا۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کا چارٹر آف ڈیمانڈ ایک شق بھی بجٹ میں شامل نہیں کی گئی، کسانوں نے تقاضا کیا تھا کہ انہیں فصلوں پر سپوٹ پرائس مہیا کی جائے، مگر حکومت بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دینے میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ یوریا کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوئی ہے جس کے مطابق بجٹ میں یوریا کی قیمتیں کم کی گئیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بجٹ ماضی کی کہانیاں دہراتا ہے،حکومت گزشتہ تین سالوں میں بجٹ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی،حکومت کی پالیسیوں سے لگتا ہے کہ نئے مالی سال میں بھی حکومت اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آئندہ دو دنوں میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس بلائے گی جس میں مشاورت اور ماہرین کی رائے لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل بتائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرلیں گے مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ممکن ہو،حکومت ہر منصوبے کا چار چار دفعہ افتتاح کرتی ہے مگر بدقسمتی سے کسی ایک منصوبے پر بھی کام کا آغاز نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس نہ ٹیم ہے نہ کوئی سکیم ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے آئندہ مالی سال کا بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے لیے بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے،پچھلے سال کے بجٹ کے چند اعداد وشمار تبدیل کیے گئے ہیں، یہ کسی بھی طرح سے عوامی بجٹ نہیں کیوں کہ اس میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔(اح+رڈ)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…