پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

ملا منصور کی ہلاکت،بڑے بڑے افسران گرفتار،چوہدری نثار علی خان نے اہم اعلان کردیا

datetime 31  مئی‬‮  2016 |
APP71-10 ISLAMABAD: September 10 - Federal Minister for Interior and Narcotics Control Chaudhry Nisar Ali Khan addressing a press conference at Punjab House. APP photo by Irfan Mahmood

اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور کے ڈی این اے ٹیسٹ میں تصدیق کے بعد ہی اسکی موت کا اعلان کیا گیا۔اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ ملا منصور کی لاش قانونی کارروائی کے بعد افغانستان میں اس کے ورثا کے حوالے کردی گئی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے ملامنصور کے جعلی شناختی کارڈ کے اجراء میں معاونت کرنے والے تمام افسران کو گرفتار کرلیا ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر ٗرسالدار میجر ٗایف آئی اے اور نادرا کے ملازمین بھی شامل ہیں۔چودھری نثار نے کہا کہ صرف نادرا کے ملازمین ہی نہیں دیگر اعلی افسران بھی جعلی شناختی کارڈ بنوانے میں مددگار تھے اور یہ لوگ تصدیق کرنے والوں میں شامل تھے۔وزیر داخلہ کہا کہ ملامنصور کی دوسری بیوی کے شناختی کارڈ کے اجراء میں معاونت ایف آئی اے کے اہلکار نے کی تھی۔وزیر داخلہ نے کہاکہ امریکی ڈرون ایئر فورس کے ریڈار میں نہیں آیا جس کی وجہ سے نوشکی میں ہونے والے حملے کا بروقت پتا نہیں لگ سکا ٗسابق افغان طالبان امیر ملا اختر منصور کی لاش حوالگی ڈی این اے رپورٹ کی وجہ سے پاکستان میں موجود تھی اور ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ان کی میت افغانستان بھجوادی گئی ہے جہاں لاش ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ جعلی کارڈز صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہیں اور پاکستان کیلئے یہ مسئلہ اس لئے ہیں کہ 40 لاکھ افغان مہاجرین، بنگلہ دیشی اور برما کے لوگ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے کسی حکومت نے جعلی شناختی کارڈز کے مسئلے پر توجہ نہیں دی اور سابقہ دور حکومت میں صرف 529 شناختی کارڈز بلاک ہیں ٗ گزشتہ ڈھائی سال میں 2 لاکھ 50 ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب نادرا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، کرپشن کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی اور اب بھی کریں گے۔ انہوں نے چیئرمین نادرا کو ہدایت کی کہ ملک بھر کے لوگوں کے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کا عمل شفاف ہونا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…