اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

ہزاروں پاکستانیوں کی خلیجی ممالک سے وطن واپسی، وجہ کیابنی ؟جانئے

datetime 24  مئی‬‮  2016 |

ابو ظہبی (این این آئی) عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے ابوظہبی کی سرکاری کمپنیوں میں ہزاروں ملازمتوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب ،قطر و دیگر ممالک کی کمپنیوں نے اپنے اخراجات میں کمی شروع کر دی ہے اور ملازمتوں میں کٹوتی اس بات کی علامت ہے کہ تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے خلیجی ریاستیں معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال ممالک نے خطے میں تعمیراتی کاموں میں بڑھتے اخراجات روکنے اور بجٹ کے خسارے کو محدود کرنے کیلئے توانائی کے شعبے میں دی جانیوالی سبسڈی کو کم کر دیا ہے جس کے باعث سرکاری سطح پر بھی مختلف اداروں نے اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی نیشنل آئل کمپنی ( اے ڈی این او سی) جس کے ملازمین کی تعداد 55 ہزار ہے نے گزشتہ کچھ ماہ سینکڑوں ملازمتوں کو ختم کیا جبکہ 2016 کے اختتام تک مزید 5 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا جائیگا جن میں بھارت ، بنگلہ دیش ، سری لنکا سمیت پاکستانیوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔ اے ڈی این او سی کے ترجمان نے ملازمین کی کمی کے بارے میں تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ گیس انڈسٹری اور تیل کی قیمتوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہماری کمپنی نے ہمیشہ زیادہ نفع بخش اورموثر ادارہ بننے کی کوشش کی ہے۔ ابوظہبی اورمتحدہ عرب امارات کی کچھ کمپنیاں ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کے بارے یقین نہیں رکھتیں۔ البتہ حکومت تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کے حق میں ہے۔ گزشتہ سال ابوظہبی نے دیگر خلیجی ریاستوں کی تقلید کرتے ہوئے مقامی سطح پر ایندھن اور بجلی کی سبسڈی میں کمی کی تھی اوراب اسی منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ قطر کے سرکاری اداروں قطر پٹرولیم اور قطر ریلوے نے بھی ملازمتوں میں کمی کی ہے۔ خلیجی ریاستوں میں ان اقدامات کے باوجود عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں پر تاحال اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ابوظہبی میں مقامی ملازمین کے مقابلے میں غیر ملکیوں اورتارکین وطن ملازمین کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب ملازمین کو فارغ کرنے کی وجہ سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کیساتھ بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے تاہم تیل پر انحصار نہ ہونے کی وجہ سے دبئی میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ ابوظہبی میں مختلف صنعتی ادارے جیسا کہ ابوظہبی نیشنل انرجی کمپنی نے 2014 سے ہی ورک فورس کو کم کرنا شروع کردیا تھا۔ اب وہاں تیل اور گیس کی پیدوار کے شعبوں 55فیصد ملازمتوں میں کمی کی ہے۔ اس سے قبل اتحاد ریل نے اپنے سٹاف میں 30فیصد ملازمین کو فارغ کیا تھا۔ ابوظہبی میں نیشنل پیڑولیم کنسٹرکشن کمپنی کے چیئرمین محمد ال رومیھتی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ کچھ کمپنیوں میں تارکین وطن کو ملازمت سے فارغ کرکے مقامی لوگوں کیلئے ملازمت کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…