ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

بیرونی اثاثے قانونی قراردینے کی تیاریاں شروع

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد و اثاثوں پر 15 سے 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لیناشروع کر دیا ہے۔اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے سینئر افسر نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن(ٹی آر سی) نے اپنی رپورٹ میں پاکستانیوں کی جانب سے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ جمع کرائی جانے والی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر نہ کیے جانے والے بیرون ملک موجود اثاثہ جات و جائیداد پر 15فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جس کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔نجی ٹی وی کو دستیاب ٹی آر سی رپورٹ کے مطابق ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے نان رپورٹنگ اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے بے نامی ٹرانزیکیشنز پر بھی 25فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی بھی بے نامی ٹرانزیکیشن پکڑی جائے تو اس پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے جبکہ کمیشن کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ پاکستانیوں کی جانب سے جو بیرون ممالک اثاثہ جات رکھے گئے ہیں انہیں یہ اثاثہ جات پاکستان میں اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے اور جو پاکستانی اپنے بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنا چاہتے ہیں انہیں 15 سے 20 فیصد اضافی ٹیکس کی ادائیگی پر یہ اثاثے ڈیکلیئر کرنے کی اجازت دی جائے تاہم ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے بتایا کہ اگرچہ اس تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے مگر اس حوالے سے آئی ایم ایف و دیگر اداروں کے تحفظات ہیں کیونکہ وہ اس اقدام کو ایمنسٹی کے ذمرے میں لاتے ہیں اور ایمنسٹی کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ پانامہ لیکس کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ دیکھا جارہا ہے کہ ایف بی آر قانون کے دائرہ میں رہ کر کیا اقدام اٹھا سکتا ہے کیونکہ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پانامہ لیکس کی رپورٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی سرکاری طور پر ڈیٹا و دیگر معلومات حاصل کرسکتا ہے اس لیے کارروائی ممکن نہیں، اس کے علاوہ 2010 میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی شق 111 میں ہونے والی ترمیم کے تحت ٹیکس اتھارٹیز 6سال سے زیادہ پرانا ریکارڈ کھول بھی نہیں سکتیں اور اگر یہ کمپنیاں 6سال سے زائد عرصے پرانی ہیں تو قانونی طور پر ان کے بارے میں ایف بی آر کچھ نہیں کرسکتا۔لہذا اس صورتحال کے تناظر میں یہ تجویز زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ بیرون ملک اثاثہ جات و دولت رکھنے والے پاکستانیوں کو خاص شرح سے ٹیکس ادائیگی پر پاکستان میں اپنے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں یہ اثاثے ظاہر کرنے کا موقع دیاجائے، اس سے ایف بی آر کو اضافی ریونیو بھی حاصل ہوگا اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی مختلف پہلوں سے جائزہ لیا جارہا ہے تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور باہمی مشاورت کے ساتھ اس بارے کوئی اقدام اٹھایا جائیگا۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…