اسلام آباد(نیوزڈیسک)آپ نے دنیا بھر کے پراسرار مقامات کے بارے میں سن رکھا ہوگا لیکن کیاآپ جانتے ہیں کہ ایسے ہی کچھ مقامات پاکستان میں بھی ہیں جن کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور ہیں۔کچھ جگہوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پریاں رہتی ہیں تو کسی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں روحیں راج کرتی ہیں،آئیے آپ کو چند ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں۔
کوہ چلتن
کوئٹہ کے قریب واقع اس پہاڑی سلسلے کو ’چیل تن‘کہاجاتا ہے یعنی ’چالیس جسم‘۔اس جگہ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں ان چالیس بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں جن کے والدین نے انہیں وہ تنہا مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔

مکلی کا قبرستان
صوبہ سند ھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع یہ قبرستان اپنے اندر کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے۔یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جہاں قبریں منزلوں میں بنائی گئی ہیں۔تیرھویں صدی کے اس قبرستان میں ایک لاکھ سے زائد قبریں ہیں اور دفن ہونے والے لوگوں میں علاقے کے سردار،نیک لوگ اور حکمران شامل ہیں لیکن اب یہاں کسی کو دفن نہیں کیا جاتا۔

شہرروغن
بلوچستان میں واقع اس شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جن یا بدروحیں موجود ہیں۔کہاجاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یہاں ایک بدی الجمال نامی شہزادی رہا کرتی تھی لیکن اس پر جنات کا سایہ تھا۔کئی شہزادوں نے اسے ان جنات سے چھڑانے کی کوشش کی لیکن تمام ناکام ہوئے اور پھر ایک دن شہزادے سیف الملوک نے اسے ان جنات کے چنگل سے چھڑایالیکن اب مشہور ہے کہ یہ جن اب اس علاقے کی پہاڑیوں،غاروں اورندیوں پر حکومت کرتے ہیں اور یہاں آنے والے لوگوں پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔

موہاتا پیلس
کراچی میں واقع اس شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں برطانوی دور سے مافوق الفطرت اشیائ کا قبضہ ہے۔ یہ پیلس 1927ئ میں بنایا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ یہاں بہت عجیب حرکتیں دیکھنے کو ملتی ہیں،کبھی پیلس کی روشنیاں خودبخود مدھم اور تیز ہوجاتی ہیں اور کبھی غیر مانوس سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔

موہنجودڑو
دوہزار سال پرانایہ شہر اپنے اندر کئی راز سمیٹے ہوئے ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق یہ شہر تھرمل نیوکلئیردھماکے کی وجہ سے تباہ ہوااورسائنسدان اس بات پر حیران ہیں کہ دوہزار سال قبل کس طرح اس علاقے کے لوگوں کو ایٹمی دھماکے کا علم تھا تاہم ابھی تک اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا جاسکا۔

کالاباغ
آپ نے کالاباغ ڈیم کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھ رکھا ہوگا لیکن کیاآپ کو معلوم ہے کہ جس جگہ یہ ڈیم بننا تھا وہاں آج بھی پراسرار بڑھیا راتوں کو پھرتی ہوئی پائی جاتی ہے۔جن لوگوں نے اس بڑھیا کو دیکھا ہے ،ان کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے قد ،فربہ جسم ،لمبے بالوں والی بڑھیاراتوں کو وہاں چلتی ہوئی دیکھی جاتی ہے۔

کوہ سلیمان
تخت سلیمانی کی سب سے بلند چوٹی کوہ سلیمان ہے اور پشتوروایات کے مطابق یہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے منصوب ہے۔ابن بطوطہ کے مطابق اس چوٹی پرپہنچنے والے پہلے شخص حضرت سلیمان تھے اور یہ بھی روایات میں ملتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد نے اردگرد کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔

چوکھنڈی کا قبرستان
یہ قبرستان کراچی سے 29کلومیٹر مشرق میں واقع ہے جس میں ماضی کے بادشاہ اور ملکائیں مدفون ہیں۔اس متروکہ قبرستان کے بارے میں مشہور ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے تو یہاں موجود قبریں جلنے لگتی ہیں اوربہت زیادہ گرم ہوجاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ قبروں میں سے چیخ وپکار بھی سنائی دیتی ہے۔

پیر چٹال نورانی گندھاوا
بلوچستان کے علاقے جھل مگسی کے قریب ایک نخلستان آباد ہے اور اس کے پانی میں دوفٹ لمبی مچھلیاں پائی جاتی ہیںاور اگر کوئی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ اس کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔

جھیل سیف الملوک
کہاجاتا ہے کہ صدیوں قبل ایک ایرانی شہزادہ اور پریوں کی رانی ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے لیکن کچھ روحوں کو یہ پیار ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے دونوں کو قتل کردیا اور تب سے اب تک ہررات کو پریاں اس جگہ آکر دونوں عاشقوں کو یاد کرکے روتی ہیں۔




















































