بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

سانحہ لاہور, محمد یوسف کے لواحقین کا پولیس کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک)لاہور کے گلشن اقبال پارک میں چار روز قبل ہونے والے خودکش حملے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے خودکش حملہ آور قرار دیے جانے والے مظفر گڑھ کے رہائشی محمد یوسف کے لواحقین نے پولیس کی ناہلی اور غیر ذمہ داری پرعدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا.میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکش حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظفر گڑھ سے دوستوں کے ساتھ آئے محمد یوسف کو خودکش حملہ آور قرار دیا تھا تاہم بعد میں تفتتیش کے دوران پتا چلا کہ مقتول محمد یوسف اپنے دو دوستوں کیساتھ گلشن اقبال پارک میں سیر وتفریح کی غرض سے آیا تھا جس کے بعد پولیس کو اپنا بیان واپس لینا پڑا تاہم اب یوسف کے لواحقین نے پولیس کی اس نااہلی کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یوسف کو حملے کے روز ہی خودکش حملہ آور قرار دے دیا گیا تھا اور پنجاب پولیس کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی میڈ یا کو محمد یوسف کی تصاویر اورجائے حادثہ سے ملنے والے شناختی کارڈ کی تصاویر جاری کر دی گئی تھیں ۔ اس کے علاوہ شہد محمد یوسف کے والد اوربھائیوں سمیت چچا اور کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا اور ان سے تفتیش بھی کی گئی تاہم دو روز بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ذرائع کا مزید کہناہے کہ خبر نشر ہونے کے بعد مظفر گڑھ میں محمد یوسف کے خاندان کو جوان بیٹے کی شہادت کے غم کیساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے رویے پرشدید ذہنی کوفت کا سامنا کر نا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کی جانب سے گزشتہ روز بیان جاری کیا گیا تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نےمحمد یوسف کو کبھی دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا تاہم غلط فہمی کی بنیاد پر اسے خود کش حملہ آو ر نامزد کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…