پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

سانحہ لاہور, محمد یوسف کے لواحقین کا پولیس کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک)لاہور کے گلشن اقبال پارک میں چار روز قبل ہونے والے خودکش حملے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے خودکش حملہ آور قرار دیے جانے والے مظفر گڑھ کے رہائشی محمد یوسف کے لواحقین نے پولیس کی ناہلی اور غیر ذمہ داری پرعدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا.میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکش حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظفر گڑھ سے دوستوں کے ساتھ آئے محمد یوسف کو خودکش حملہ آور قرار دیا تھا تاہم بعد میں تفتتیش کے دوران پتا چلا کہ مقتول محمد یوسف اپنے دو دوستوں کیساتھ گلشن اقبال پارک میں سیر وتفریح کی غرض سے آیا تھا جس کے بعد پولیس کو اپنا بیان واپس لینا پڑا تاہم اب یوسف کے لواحقین نے پولیس کی اس نااہلی کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یوسف کو حملے کے روز ہی خودکش حملہ آور قرار دے دیا گیا تھا اور پنجاب پولیس کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی میڈ یا کو محمد یوسف کی تصاویر اورجائے حادثہ سے ملنے والے شناختی کارڈ کی تصاویر جاری کر دی گئی تھیں ۔ اس کے علاوہ شہد محمد یوسف کے والد اوربھائیوں سمیت چچا اور کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا اور ان سے تفتیش بھی کی گئی تاہم دو روز بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ذرائع کا مزید کہناہے کہ خبر نشر ہونے کے بعد مظفر گڑھ میں محمد یوسف کے خاندان کو جوان بیٹے کی شہادت کے غم کیساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے رویے پرشدید ذہنی کوفت کا سامنا کر نا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کی جانب سے گزشتہ روز بیان جاری کیا گیا تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نےمحمد یوسف کو کبھی دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا تاہم غلط فہمی کی بنیاد پر اسے خود کش حملہ آو ر نامزد کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…