جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

پی آئی اے کے دستاوےزات غائب ہونے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا اندیشہ

datetime 28  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی ایئرلائن ( پی آئی اے ) کے اربوں روپے کے اثاثوں کی دستاویزات غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس میں پی آئی اے کے قیمتی اثاثے من پسند لوگوں کو دینے اور اونے پونے بچینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے تفصیلات کے مطابق پاکستان ایئرلائن جو کہ اربوں روپے کے قیمتی اثاثے اندرون ملک اور بیرون ملک میں رکھی ہے کے پیچھے طاقتور مافیاءسرگرم ہو گیا ہے جس کی سب سے بڑی مثال راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود دفاتر ہیں نجکاری کمیشن نے اربوں کے پلازوں کی قیمت صرف چھ کروڑ روپے ظاہر کی ہے جس سے اپوزیشن ارکان اور (ن) لیگ کے اندر سے ہی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ذرائع کے مطابق مافیاءقرضوں کے اندر ڈوبی ہوئی قومی ایئرلائن کو مزید دفنانے کے درپے ہے ۔قومی ایئرلائن کے اثاثوں میں سے بیرون ملک موجود اثاثے جن میں نیویارک میں موجود ہوٹل روز ویلٹ اور پیرس می موجود ہوٹل سکراب اربوں ڈالرز کی مالیت کے ہے کو بھی نیلام کرنے پر تلی ہوءہے حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت فی الحال بیرون ملک اثاثے بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن اندرون ملک کے اثاثے ضرور بیچیں جائیں گے ۔ تاہم حکومت ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی آئی اے کے اندر سے بھی کاغذات بارے چھان بین کی جا رہی ہے ۔ آن لائن کو ملنے والی رپورٹ کے مطابق قومی ایئرلائن کے پاکستان میں بھی اربوں روپے کے اثاثے موجود ہیں جو حکومت جلد سے جلد اپنے لوگوں کو دینے کے لئے تیار بیٹھی ہے ۔ اس حوالے سے سینیٹر سعید غنی نے آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اداروں کی ذمہ داری ہے اور ہر ادارے کے اندر لوگ موجود ہیں جو ریکارڈ کو ضائع کرتے ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریکارڈ کو اکٹھا کر کے رکھیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا ہے پراپرٹی کے کاغذات نہ ہوں یہ بھی صحیح بات ہے کہ پرانی پراپرٹی کے کاغذات کا مسئلہ پیش آ جاتا ہے اس حوالے سے سینیٹر کامل علی آغا نے آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے قومی ایئرلائن میں اربوں روپے کی کرپشن کرنا چاہتی ہے جو کہ قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ نجکاری کمیشن اور حکومت آرڈیننس کو بل میں تبدیل کر کے پی آئی اے کواپریٹو کر رہی ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومتی اثاثوں کے لئے رجسٹری کاغذات کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے لئے سرٹیفیکیٹ ہی کافی ہوتا ہے جو حکومت وقت جاری کر سکتا ہے لیکن حکومت اربوں روپے کی کرپشن اور نئی ایئرلائن کے نام پر لوٹ مار کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے ۔ چیئرمین نجکاری کمیشن زبیر عمر سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پی آئی اے کی خصوصی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پی ٹی سی ایل کی طرح پی آئی اے کے زیادہ تر اثاثوں کے کاغذات نہیں ہیں جس پر سینیٹر کامل آغا ( ق ) لیگ نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا تھا جبکہ چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ خان نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نجکاری کمیشن کی جانب سے پی آئی اے کے اثاثوں کو جو قیمیتں سینٹ میں بتائی گئی ہیں کسی مذاق سے کم نہیں ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شریں رحمان نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان نہ پہنچایا جائے اور ان کی صحیح قیمتیں تعین کی جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…