ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پرویزمشرف ایمرجنسی کے تنہا ذمہ دار، سپریم کورٹ

datetime 26  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنگین غداری کیس میں جسٹس ریٹائرڈ عبدالحمید ڈوگر کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور شریک ملزمان کا نام مقدمے سے نکالنے کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی سے متعلق قائم کیے گئے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے 21 نومبر 2014 کو وفاقی حکومت کو اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز، اس وقت کے چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو شریک ملزمان نامزد کرنے کا حکم دیا تھا۔خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس نے 10 نومبر 2015 کو اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔بعد ازاں خصوصی عدالت نے 27 نومبر 2015 کو وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور موجودہ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد کے خلاف قائم غداری کے مقدمے کی تحقیقات دوبارہ کروائے۔جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جسے دسمبر 2015 میں مسترد کردیا گیا، جس کے بعد سابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جسٹس ریٹائرڈ عبدالحمید ڈوگر کی اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس ڈوگر کا نام مقدمے سے نکالنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایمریجنسی کے نفاذ کی دستاویزات پر پرویز مشرف کے دستخط موجود ہیں اور وفاق پرویز مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا تنہا ذمہ دار سمجھتا ہے۔سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل بغیر تاخیر کے جلد از جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…