پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

’متھے تے چمکن وال‘۔۔۔ گنجے کیوں ہوتے ہیں؟

datetime 16  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) سر پر بالوں کی موجودگی انسانی حسن کا لازمی جزو تصور کیاجاتا ہے جبکہ معاملہ صنف نازک کا ہوتو نوعیت مزید حساس ہوجاتی ہےاور جولوگ جوانی میں بالوں سے محروم ہوجاتے ہیں وہ بالوں کی واپسی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں لیکن وہ اب مزید پریشان نہ ہوں۔برطانوی نشریاتی ادارے’بی بی سی‘ رپورٹ کے مطابق سائنسدان نے گنجے پن کے حل کے قریب پہنچتے نظر آ رہے ہیں۔ انہیں اس عمل کی شناخت معلوم ہو چکی کہ عمر کے ساتھ ساتھ بال پتلے اور کمزور کیوں ہوتے اور گر جاتے ہیں۔گنجے پن کی وجہ بالوں کے فولیکل (بالوں کی جڑوں کے ساتھ جلد) کے اسٹیم سیلز ہیں، بڑھتی عمر سے ان خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ بالوں کے فولیکل سکڑتے سکڑتے غائب ہو جاتے ہیں۔تحقیق سے پتہ چلا کہ 55 سال سے بڑی عمر کے لوگوں کے فولیکل چھوٹے تھے اور ان میں پروٹین کیلوجن 17اے1 کم تھا۔ماہرین کا خیال ہے کہ 17اے1 کیلوجن کے اضافے سے گنجے پن کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیم سیلز کی تبدیلی گنجے ہونے کی صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے۔تحقیق میں گنجے پن کی ایک وجہ پر غور کیا گیا ہے ،اس کے علاوہ کئی اور وجوہات بھی ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی ا?ف ٹوکیو کے طب کے شعبے کے ایمی نشیمورا اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔کچھہ عرصہ قبل امریکی میگزین ’ٹائمز‘نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا تھاکہ گنجے سر والے مرد بالوں والے افراد کی نسبت زیادہ صاحب تاثیر، طاقتور، قابل اعتماد اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سر منڈوانے والوں کو بال والوں سے زیادہ جلد ملازمت اور اہم عہدے مل جاتے ہیں اور بالوں والے حضرات اکثر اپنے بالوں کے تحفظ میں نہ صرف بہت سا قیمتی وقت برباد کر دیتے ہیں بلکہ بالوں کو گرنے سے بچانے کے لیے بھاری رقوم بھی صرف کر بیٹھتے ہیں۔گنجوں میں مردانہ خوبیاں زیادہ ہوتی ہیں اور وہ بالوں والے اپنے ہم عصروں سے زیادہ تیز اور پھرتیلے ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں اعتماد کی نظروں سے دیکھتے، انہیں حساس اور ذمہ دار انسان کے طور پر جانتے ہیں۔ صرف ان کے رویے اور طرز عمل ہی سے نہیں بلکہ مردانہ خوبیاں ان کے چہروں پر بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ گنجے زندگی کے مختلف شعبوں میں دوسروں کی نسبت زیاد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے اور زیادہ کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…