جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

تین سال میں قوم کوایک کروڑکلوگدھے کاگوشت کھلا یا گیا،سینیٹرحافظ حمداللہ

datetime 13  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جے یو آئی کے سینیٹرحافظ حمداللہ نے کہاہے کہ تین سالوں میں قوم کوایک کروڑکلوگدھے کاگوشت کھلانے والے گروہ کوبے نقاب کیوں نہیں کیاگیا؟اس لئے کہ دولاکھ سے زائدکھالیں خریدنے والے بااثرمافیاکے تانے بانے کئی حکومتی ودیگرسیاسی لوگوں کے ساتھ یقیناًملتے ہیں ،غربت کے خاتمے کیلئے جب تک اہم اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے اس وقت تک کئی کروڑگدھے ہمیں مزیدکھاناپڑیںگے،وزارت خزانہ بڑاپیارالفظ ہے لیکن میرے نزدیک وزارت خیرات اوروزارت کشکول کہاجائے توبری بات نہیں ۔ان خیالات کااظہارانہوںنے گزشتہ روز آن لائن سے خصوصی گفتگومیں کیا۔حافظ حمداللہ کاکہناتھاکہ غریب اتناعام ہوچکاہے کہ حرام خوری سے اجتناب کرنااب اس کے بس کی بات نہیں،گدھوں کاگوشت ہویاگدھوں کی کھالیں اس کے پیچھے ایک بااثرمافیاہے اوراس مافیاکی جڑیں حکومت اوربااثرسیاستدانوں کے ساتھ پیوسط ہیں،سوچنے کی بات ہے کہ ادارے کہاں گئے یہ کاروبارکرنے والے چندافرادپکڑے توجاتے ہیں لیکن پھروہ آزادگھوم کرایک اورگدھاذبح کرکے ہمارے حلق میں دیدیاجاتاہے ،حکومت کی خاموشی معنی خیزہے اوراس حوالے سے وہ قوم کوجوابدہ ہے ۔سوال کے جواب میں

باراک اوباما اہلیہ کی محبت میں ایسے کھوئے کہ شاعر بن گئے،ویڈیو دیکھئے

انہوںنے بتایاکہ جمہوریت صرف نعرے کی حدتک ہے جس کے پاس دولت ہے وہ سیاست میں آگیا،جب سیاست میں آگیاتوپھروہ امیرسے امیرتراورترین بن گیا،لیکن احتساب ان لوگوں کاہے جولاوارث ہیں ۔ایک اورسوال کے جواب میں کہاکہ ریاست کوچلانے کیلئے وزارت خزانہ اہم کرداراداکرتی ہے لیکن ہماری خزانہ کشکول اٹھائے آئی ایم ایف ودیگرسے خیرات مانگتی پھرتی ہے،خیرات مانگنے سے ہم کبھی بھی اپنے قدموں پرکھڑے نہیں ہوسکتے اورنہ ہی اپنی معیشت کوسہارادے سکتے ہیں ،حکومت کیلئے وقت ہے کہ وہ حرام گوشت مافیاکوبے نقاب کرلے توہم مان جائیںگے کہ ان پانچ سالوں میں قوم کیلئے حرام مافیاکوتوبے نقاب کرگئے ،باقی ان کے بس کی بات نہیں اورنہ ہی ہم ایساسوچتے ہیں کہ وہ قوم کے بھلے کیلئے کوئی ناگزیراقدامات اٹھائیں گے #/s#۔(یاسرعباسی)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…