جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات مقدمہ فوجی عدالتوں کو بھجوانے کا فیصلہ

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق عزیر بلوچ کے غیر ملکی خفیہ اداروں سے مضبوط روابط رہے اہم سیاسی رہنما نے رحمان ڈکیت کو پولیس کے ہاتھوں مروایا خالد شہنشاہ کو بلاو¿ل ہاوس سے زبردستی باہر بھیج کر قتل کرایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے غیرملکی خفیہ ادارے سے روابط کا اعتراف کیا اور کہاکہ مختلف سرکاری محکموں میں بھرتیوں اورعلیحدگی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کو لیاری میں روپوش کرائے جانے میں بھی وہی ملوث تھا۔عزیزبلوچ نے لیاری کے دو ارکان سندھ اسمبلی کو اپنا حلف یافتہ بھی قرار دے دیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے روابط کا اعتراف کیا ہے اورفرار کے بعد اسی ایجنسی کی مدد سے وہ پہلے ایران پھر مسقط اور پھر دبئی پہنچا تھا جہاں پیپلزپارٹی کے بعض اہم رہنماو¿ں نے اس سے رابطہ بھی کیا لیکن عزیر بلوچ کہتا ہے کہ وہ صرف آصف علی زرداری سے مل کر اختلافات کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا جو ممکن نہ ہوسکا۔دوران تفتیش عزیر بلوچ نے کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور مطلوب ترین علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو لیاری میں روپوش کروائے جانے کا بھی اعتراف کیا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ نے محکمہ لیبر پولیس اور فشریز میں بھرتیاں کروانے اور فشریز کے گرفتار وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی سے اسلحے کی خریدو فروخت کا بھی انکشاف کیا ہے۔عزیر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ پیپلزپارٹی نے لیاری میں ثانیہ ناز، جاوید ناگوری اور عدنان بلوچ کو اسی کے کہنے پر ٹکٹ دیئے اور یہ بھی بتایا کہ لیاری سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والی ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری عزیر بلوچ کی وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ دریں اثنا عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات فوجی عدالت کو بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کیا جائے گا عزیر بلوچ کا تعلق بھی کالعدم تنظیم سے ہے۔ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان میں طے کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ اسی فیصلے کے تحت کالعدم امن کمیٹی کے سرپرست عزیر بلوچ کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو بھیجے جائیں گے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے 15 روز میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل ہونے کے بعد وزارت داخلہ سے فوجی عدالت کو کیس بھیجنے کی منظوری لے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کے مقدمات 90 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی فوجی عدالت کو بھیجے جاسکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…