جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات مقدمہ فوجی عدالتوں کو بھجوانے کا فیصلہ

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق عزیر بلوچ کے غیر ملکی خفیہ اداروں سے مضبوط روابط رہے اہم سیاسی رہنما نے رحمان ڈکیت کو پولیس کے ہاتھوں مروایا خالد شہنشاہ کو بلاو¿ل ہاوس سے زبردستی باہر بھیج کر قتل کرایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے غیرملکی خفیہ ادارے سے روابط کا اعتراف کیا اور کہاکہ مختلف سرکاری محکموں میں بھرتیوں اورعلیحدگی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کو لیاری میں روپوش کرائے جانے میں بھی وہی ملوث تھا۔عزیزبلوچ نے لیاری کے دو ارکان سندھ اسمبلی کو اپنا حلف یافتہ بھی قرار دے دیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے روابط کا اعتراف کیا ہے اورفرار کے بعد اسی ایجنسی کی مدد سے وہ پہلے ایران پھر مسقط اور پھر دبئی پہنچا تھا جہاں پیپلزپارٹی کے بعض اہم رہنماو¿ں نے اس سے رابطہ بھی کیا لیکن عزیر بلوچ کہتا ہے کہ وہ صرف آصف علی زرداری سے مل کر اختلافات کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا جو ممکن نہ ہوسکا۔دوران تفتیش عزیر بلوچ نے کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور مطلوب ترین علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو لیاری میں روپوش کروائے جانے کا بھی اعتراف کیا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ نے محکمہ لیبر پولیس اور فشریز میں بھرتیاں کروانے اور فشریز کے گرفتار وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی سے اسلحے کی خریدو فروخت کا بھی انکشاف کیا ہے۔عزیر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ پیپلزپارٹی نے لیاری میں ثانیہ ناز، جاوید ناگوری اور عدنان بلوچ کو اسی کے کہنے پر ٹکٹ دیئے اور یہ بھی بتایا کہ لیاری سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والی ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری عزیر بلوچ کی وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ دریں اثنا عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات فوجی عدالت کو بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کیا جائے گا عزیر بلوچ کا تعلق بھی کالعدم تنظیم سے ہے۔ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان میں طے کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ اسی فیصلے کے تحت کالعدم امن کمیٹی کے سرپرست عزیر بلوچ کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو بھیجے جائیں گے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے 15 روز میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل ہونے کے بعد وزارت داخلہ سے فوجی عدالت کو کیس بھیجنے کی منظوری لے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کے مقدمات 90 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی فوجی عدالت کو بھیجے جاسکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…