جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی پرچم لہرانے کا کوئی مذموم مقصد نہیں تھا

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملزم بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی سے مشابہت کی وجہ سے بھی اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ اسے کوہلی کے نام سے ہی پکارا جائے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر اوکاڑہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ عمر دراز نامی شہری کی جانب سے بھارتی پرچم لہرانے کے معاملے میں اب تک تفتیش کے دوران ملزم کے کوئی مذموم مقاصد سامنے نہیں آئے ہیں۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مقدمے کے تفتیشی افسر محمد عمران کا کہنا ہے کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے بھارتی پرچم لہرانے کا اقدام بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی کے مداح کی حیثیت سے ہی کیا۔بھارتی پرچم لہرانے پر ’ویراٹ کوہلی کا مداح‘ گرفتارعمر دراز کو منگل کو بھارت اور آسٹریلیا نے ٹی 20 میچ میں بھارت کی فتح کے بعد اپنے مکان پر بھارت کا جھنڈا لہرانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔پولیس نے ان کے خلاف نقصِ امن عامہ کی دفعہ 16 ایم پی او کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کی طرف سے بھارتی پرچم لہرانے کی اطلاع گاو¿ں والوں نے دی تھی تاہم اس مقدمے میں ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق تاحال ملزم کی جانب سے اس مقدمے میں ضمانت کی درخواست نہیں دی گئی ہے۔خیال رہے کہ عمر دراز اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ملزم نے اپنے کمرے میں اپنی اور ویرات کوہلی کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ لگا رکھی تھیںسب انسپکٹر محمد عمران کا کہنا ہے کہ ملزم عمر دراز کرکٹ کا اچھا کھلاڑی ہے اور ویراٹ کوہلی سے مشابہت کی وجہ سے بھی وہ اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ اسے کوہلی کے نام سے ہی پکارا جائے۔ان کے مطابق ملزم زیادہ تر ویراٹ کوہلی کے نام کی ٹی شرٹ پہنے رکھتا تھا بلکہ ا±س نے اپنے کمرے میں اپنی اور ویراٹ کوہلی کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ لگا رکھی تھیں۔ملزم عمر دراز کے بھائی عارف علی کا بھی کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور پورا خاندان محب وطن ہیں اور ملک سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔صحافی عبدالناصرخان سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گاو¿ں کے لڑکوں نے کرکٹ کی مختلف ٹیمیں بنا رکھی ہیں اور عمر دراز ان میں سے بھارت نامی ٹیم کا رکن تھا تاہم وہ نہیں جانتے کہ اس نے کیوں گھر کے اوپر بھارتی پرچم لگایا۔عارف نے کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں اتنی ہمت بھی نہیں کہ کوئی بڑا وکیل کر کے عمردراز کو رہا کروانے کی کوشش کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…