جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکی فضائیہ اور انڈین ایئر لائن پاکستان کی مقروض نکلیں

datetime 27  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امریکی ایئر فورس، انڈین ایئر لائن سمیت کئی فضائی کمپنیوں نے 14 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔منگل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے بتایا کہ امریکی فضائیہ نے سی اے اے کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے دینے ہیں اور رقم کے حصول کے لیے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے کئی بار پیغام پہنچایا گیا ہے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔یاد رہے کہ امریکی فضائیہ نے یہ رقم افغانستان میں لڑائی کے دوران پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے، کرائے، بجلی کے بلوں اور ایروناٹیکل ریونیو کی مد میں ادا کرنی ہے۔سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ذمے رقم سنہ 2002 سے 2003 کے دوران سے واجب الادا ہے۔افغانستان میں امریکہ کے حملے کے بعد پاکستان کے عسکری ہوائی اڈے امریکہ اور اتحادی افواج کے زیرِ استعمال رہے ہیں۔صوبہ بلوچستان میں شمسی ایئر بیس اور شہباز ایئر بیس امریکی فضائیہ کے استعمال میں تھیں اور ان ایئر بیس پر اتحادی افواج کے لڑاکا اور مال بردار جہاز اترتے تھے۔خیال کیا جاتا ہے کہ تربیلا غازی ایئر بیس سمیت دوسرے ایئر بیس سے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے امریکی ڈرون بھی پرواز کرتے تھے۔سنہ 2011 میں پاک افغانستان کی سرحد کے قریب سلالہ کے مقام پر فوجی چوکی پر امریکی اتحادی افواج کی بمباری میں پاکستان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے شمسی ایئر بیس کو امریکہ سے خالی کروا لیا تھا۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایئر پورٹ ٹیکس کی مد میں انڈین ایئر لائن، رشین ایئر لائن اور ملکی فضائی کمپنیوں کے ذمے میں رقوم واجبِ الادا ہیں لیکن سب سے زیادہ 8 ارب روپے پاکستان انٹرنیشنل لائن کے ذمے واجب الادا ہے۔سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے کہا کہ اب تک مجموعی طور پر چار ارب روپے وصول کر لیے گئے ہیں جبکہ 10 ارب کی وصولی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…