جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

قیدیوں کا تبادلہ‘ پاکستان کا افغانستان سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) افغانستان کی مختلف جیلوں میں200 کے قریب پاکستانی سویلین قیدیوں کا انکشاف ہواہے، حکومت نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے افغانستان سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی تجویزپرافغانستان نے بھی گرین سگنل دے دیا ہے، اس سلسلے میں ڈرافٹ کی تیاری شروع کردی گئی ہے جلد دونوں ملکوں کے درمیان جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس متوقع ہے۔ وزارت خارجہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان حکومت افغانستان میں باقاعدگی سے پاکستانیوں کے کیسز کی پیروی کرتی ہے، اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلر قیدیوں کی بھلائی اور تمام ضروری معاونت فراہم کرنے کیلئے جیلوں کا مسلسل دورہ کرتے ہیںاورقیدیوںکی رہائی کیلئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہیں اور قیدیوں کے کیسزکی پیروی کی جاتی ہے۔جیلوں سے رہا ہونے والے افراد کو واپسی کیلئے تمام ضروری معاونت فراہم کی جاتی ہے، اب حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی اس تجویز پر افغان حکومت نے بھی رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے متعلقہ حکام نے دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے متن پرکام شروع کردیا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ اس مسئلے پر جلد پیش رفت متوقع ہے، قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے متن کی تیاری کے بعد پاک افغان جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس مستقبل قریب میں متوقع ہے، اس سلسلے میں کام تیزی سے جاری ہے، دستاویزات کے مطابق اس وقت افغانستان کی مختلف جیلوں میں 200 کے قریب سویلین پاکستانی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جن کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…