جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

2008ء سے 2015ء تک ،لوٹ مار کا سب سے بڑا سکینڈل منظر عام پر،تہلکہ خیز انکشاف

datetime 24  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(اےن اےن آئی ) نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب کی دستاویز کے مطابق 2008ء سے 2015ء تک 51 افراد نے 11 ارب 40 کروڑ کی پلی بارگین کی۔ مہا فراڈیوں نے 1 ارب 88 کروڑ دے کر نیب سے جان چھڑا لی۔ ساڑھے 9 ارب روپے کی باقی رقم میں سے بعد میں ایک پائی بھی اداد نہیں کی۔پلی بارگین کے ناہندگان میں مضاربہ اسکینڈل، ڈبل شاہ، بینکرز سٹی، توانا پاکستان پروگرام اسکینڈلز، بینک فراڈ کے ملزمان، کرپٹ پٹواری اور کلرک شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس رپورٹ پر فوری طورپر قوم کو جواب دیں اور حقیقت کاکسامنا کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ نیب کے ساتھ پلی بارگین کر کے رہائی پانے والوں سے 80فی صد سے زائد رقم کے ریکور نہ ہونے کا انکشاف قابل مذمت ،قابل گرفت اور سنگین قومی جرم ہے ،توقع کے عین مطابق نیب کا پلی بارگین ڈرامہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ترجمان نے کہاکہ کرپشن کرنے والوں کو احتساب کے ادارے تحفظ دیں گے تو کرپشن اس ملک سے کبھی ختم نہیں ہو سکے گی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان عوامی تحریک کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے اور کرپشن کو پاکستان کی بقا کےلئے سب سے بڑاخطرہ سمجھتی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیب سے پلی بارگین کر کے رقم قومی خزانے میں جمع نہ کروائے جانے کے اس سکینڈل کی عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور قومی لٹیرے پکڑے جانے کے باوجوو پوری رقم ادا کئے بغیر کیسے رہا ہو گئے یہ حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں ،انہوں نے کہاکہ نیب کے اندر بیٹھے ہوئے وہ کون سے عناصر ہیں جو قومی خزانے کا تحفظ کرنے کی بجائے قومی لٹیروں کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ترجمان نے کہاکہ چیئرمین نیب جتنی توجہ تشہیر پر مرکوز کئے ہوئے ہیں اگر اتنی توجہ وہ قومی لٹیروں سے رقم برآمد کرنے پر دیتے تو 80فی صد رقم کے ریکور نہ ہونے کے سکینڈل قوم کے سامنے نہ آتے۔ ترجمان نے مزید کہاکہ کالے دھن کو سفید کرنے کے قانون منظور کرنے والے حکمرانوں نے ہوتے ہوئے قومی لٹیروں کو کھلی چھوٹ ملی رہے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…