منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ سلمان نئے سعودی بادشاہ بن گئے

datetime 23  جنوری‬‮  2015 |

ریاض : سعودی عرب کے 91 سالہ شاہ عبداللہ بن عبد العزیز کی وفات کے بعدان کے 77 سالہ سوتیلے بھائی شہزادہ سلمان بن عبد العزیز سعودی عرب کے بادشاہ بن گئے ہیں۔

گذشتہ سال (2014) دسمبر میں 91 سالہ شاہ عبداللہ کو طبیعت خراب ہونے پر اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔

شاہ عبداللہ کی وفات کے بعدان کے 79 سالہ سوتیلے بھائی شہزادہ سلمان سعودی عرب کے بادشاہ بن گئے ہیں۔

انھیں دو برس قبل شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ولی عہد نامزد کیا گیا تھا۔

شاہ عبداللہ نے 2005 میں سعودی عرب کا اقتدار سنبھالا تھا اور حالیہ برسوں میں ان کو صحت کے متعدد مسائل رہے۔

شاہ عبداللہ کی انتہائی خراب صحت کے باعث گذشتہ کچھ عرصے سے شہزادہ سلمان ہی مختلف تقریبات میں ان کی نمائندگی کرتے آئے ہیں۔

سعودی عرب کے نئے حکمراں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس سے پہلے وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز 31 دسمبر انیس 1935 کو پیدا ہوئے۔

تعلیم اپنے دادا السعود کی طرف سے شاہی خاندان کیلئے بنائے گئے اسکول میں حاصل کی۔

1950 میں انہیں سرکاری عہدے پر شاہ عبدالعزیز نے اپنے نمائندے کے طور پر متعارف کروایا۔

1954 میں انہیں ریاض کا میئر بنایا گیا تو ان کی عمر 19 برس تھی۔

20 سال کی عمر میں 1955 میں انہیں وزیر کا عہدہ بھی مل گیا۔

1963 میں جب وہ صرف 27 سال کے تھے تو ان کو ریاض کا گورنر بنایا گیا جس کو انہوں نے ایک چھوٹے سے قصبے سے عالی شان صوبے میں بدل دیا، انھوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دی جبکہ مغرب سے تعلقات کو مضبوط کردیا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز 1963 سے 2011 تک 48 سال تک صوبہ ریاض کے گورنر رہے۔

5 نومبر 2011 کو انہیں سعودی عرب کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔

18 جون 2012 کو شہزادہ سلمان اپنے بھائی شہزادہ نائف کے انتقال کے بعد ولی عہد مقرر ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…