منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

datetime 23  جنوری‬‮  2015 |

ریاض۔۔۔۔۔سعودی فرما روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز گزشتہ کئی ہفتوں سے علیل ہونے کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے اور انہیں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا تھا تاہم وہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب انتقال کر گئے۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ عصر کی نماز کے بعد جامعہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی جائے گی جس میں شاہی خاندان کے علاوہ بہت سے ممالک کے سربراہان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے نئے بادشاہ ہون گے۔
سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کیانتقال پر وزیر اعظم نواز شریف نیگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک اچھیدوست سیمحروم ہوگیا اور دکھ کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم شاہی خاندان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ چند روز قبل ہی وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران شاہ عبداللہ کی عیادت بھی کی تھی۔ امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللہ کی انسانیت کے لییخدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی شاہ عبداللہ کے انتقال پر شاہی خاندان سے تعزیت کا اظہار کیاہے۔
واضح رہے کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 2005 میں اپنے سوتیلے بھائی شاہ فہد بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد سعودی عرب کے حکمران منتخب ہوئے تھے جب کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مکہ کے گورنر، سعودی اسپیشل گارڈ کے کمانڈر اور وزیر دفاع کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے 9 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ شاہ عبداللہ کو دنیا کا چوتھا امیر ترین حکمران اور آٹھواں طاقت ور ترین شخص مانا جاتا تھا اور ان کے اثاثوں کی مالیت 18 ارب ڈالر تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…