امریکا نے گزشتہ سال دنیا کے چند مسلمان ممالک پر اتنے بم برسائے ہیں کہ کسی کو بھی حیران اور صدمے سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہیں۔ عام طور پر امریکا نواز سمجھے جانے والے تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز (سی ایف آر) کے سینئر فیلو میکا زینکو نے بتایا کہ “یکم جنوری 2015ء سے سال کے آخر تک امریکا نے عراق، شام، افغانستان، یمن، صومالیہ اور پاکستان پر 23 ہزار سے زیادہ بم برسائے اور یہ سب مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔” پھر یہ کہنا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے، بے معنی ہو جاتا ہے۔
سی ایف آر کے جاری کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کے دیگر ممالک کے لیے کتنی بڑی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ چاہے بمباری کا نشانہ درست افراد اور مقامات ہوں یا نہ ہوں، لیکن اس کے اثرات ان سے ہٹ کر پورے ملک اور معاشرے پر تو پڑ رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مسلم دنیا میں کتنی بڑی تباہی کا باعث ہے۔ ذرا یہ اعداد و شمار دیکھیں۔
سال 2015ء میں امریکا کی جانب سے پھینکے گئے بم
| شام و عراق | 22110 |
|---|---|
| کل | 23144 |
| افغانستان | 947 |
| یمن | 58 |
| صومالیہ | 18 |
| پاکستان | 11 |
سال 2015ء میں امریکا نے افغانستان پر 947 بم پھینکے، اس کے باوجود فارن پالیسی میگزین کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق 2001ء کے بعد طالبان پہلی بار افغانستان میں اتنے بڑے علاقے پر عملاً قابض ہیں۔ افغانستان میں امریکا کی جنگ 16ویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور اوباما انتظامیہ کے بارہا فوجی انخلا کے وعدے اب تک مکمل نہیں ہوئے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں صدر اوباما نے ایک مرتبہ پھر فوج بلانے کا فیصلہ واپس لیااور امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی میں 2017ء کے اختتام تک کی توسیع کی۔
دوسری جانب عراق ہے، جہاں عراق کے حالیہ چاروں امریکی صدور نے بمباری کی ہے۔ داعش کے خلاف جنگ، جسے ابتدائی طور پر ‘محدود مداخلت’ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر دفاع لیون پینیٹا کے الفاظ میں یہ ’30 سالہ جنگ’ بنی اور اب وائٹ ہاؤس نے، مبہم انداز میں ہی سہی لیکن، یہ کہا ہے کہ یہ عراق و شام میں ‘طویل المیعاد جدوجہد’ ہے۔ لیکن اس معاملے کا سب سے دلچسپ پہلو، جس پر زینکو نے توجہ دلائی ہے، وہ یہ ہے کہ 23 ہزار سے زیادہ بموں سے عام شہریوں کی اموات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
امریکا کی پھیلائی گئی تباہی کی یہی سب سے حیران کن بات ہے کہ وہ 25 ہزار جنگجو مارنے کا دعویٰ کرتا ہے اور 17 ماہ کی مہم میں شہری صرف 6 مرے ہیں۔ اس دوران حکام یہ بھی کہتے رہے کہ داعش اور طالبان بدستور اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ 2014ء میں سی آئی اے کے مطابق داعش کی افرادی قوت 20 سے 31 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ لیکن ابھی گزشتہ بدھ کو یہ کہا گیا کہ داعش کی تعددا اندازاً 30 ہزار ہے۔ یعنی امریکا کا حساب بڑا ہی کمزور ہے، 30 ہزار میں سے 25 ہزار نکالیں، تب بھی 30 ہزار ہی بچتا ہے۔
پھر 23 ہزار بم پھینکے جانے کے بعد امریکی وزارت دفاع کا صرف 6 شہریوں کے مارے جانے کا دعویٰ بھی ہے۔ اور یہی وہ بات ہے جو عام طور پر ذرائع ابلاغ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی شام و عراق میں مارے گئے عام افراد کے بارے میں کوئی سوال اٹھاتا ہو۔
گزشتہ سال 30 اکتوبر کو افغانستان کے شہر قندوز کے ایک ہسپتال پر امریکی طیاروں نے بمباری کی جس میں 30 افراد مارے گئے۔ اس واقعے کی تحقیقات گو کہ ابھی ہو رہی ہیں، لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ حقیقت کو غلط اور جان بوجھ کر گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔



















































