منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں شیروں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ

datetime 21  جنوری‬‮  2015 |

دہلی۔۔۔۔دنیا بھر میں پائے جانے والے شیروں کی تعداد کا 70 فیصد بھارت میں پایا جاتا ہے
بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے ہاں شیروں کی تعداد چار برس پہلے کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ ہو گئی ہے۔ملک میں شیروں کے تازہ ترین جائزے کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر ماحولیات پرکاش جاوادیکر کا کہنا تھا کہ سنہ 2011 میں بھارت میں شیروں کی کْل تعداد 1,706 تھی جو سنہ 2014 میں بڑھ کر 2,226 ہو گئی ہے۔وزیر ماحولیات نے بتایا کہ شیروں کی تعداد میں اضافے کی وجہ کئی سرکاری اقدامات ہیں جن کا مقصد شیروں کی نشو و نما اور ان کی حفاظت کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے شیروں کی تعداد کا 70 فیصد بھارت میں پایا جاتا ہے۔پرکاش جاوادیکر نے نئے جائزے کے بارے میں کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی کی خبر ہے۔دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر ماحولیات کا کہنا تھا کہ ’آج سے پہلے بھارت میں شیروں کی تعداد کا اتنا بڑا جائزہ نہیں ہوا تھا جس میں ہم نے شیروں کی 80 فیصد تعداد کی تصاویر بھی اتاریں۔’اگرچہ دنیا بھر میں شیروں کی مجموعی تعداد میں کمی ہو رہی ہے، لیکن بھارت میں اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔
’شیروں کے بچاؤ کے جو کامیاب طریقے بھارت میں اپنائے گئے ہیں، انھیں باقی دنیا میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘وزیر ماحولیات کا مزید کہنا ہے کہ بھارت بین الاقوامی برادری کو شیروں کے نئے پیدا ہونے والے بچے بطور عطیہ دینے کو تیار ہے اور یوں بھارت دنیا میں شیروں کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے جنگلی جانوروں کے بچاؤ اور ان کی فلاح سے متعلق تنظیمیں اس بات پر فکرمندی کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ دنیا میں شیروں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی ہے۔روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ کچھ ہی سال پہلے سنہ 2008 میں بھارت میں شیروں کی تعداد کا جو جائزہ لیا گیا تھا اس میں ملک میں شیروں کی کل تعداد محض 1,411 نکلی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…