جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

محبت کی خاطر سائیکل سے یورپ کا سفر

datetime 19  مارچ‬‮  2016 |

دہلی (نیوزڈیسک)وہ دہلی کی ایک سرد شام تھی جب سنہ 1975 میں سویڈن سے آنے والی شارلوٹ وان شیڈ ون نے بھارتی آرٹسٹ پی کے مہا نندا سے اپنی تصویر بنانے کے لیے کہا تھا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محبت کی خاطر بھارت سے یورپ تک سائیکل سے سفر کی ایک کلاسیکل کہانی ہے۔شارلوٹ شیڈون بطور سیاح بھارت آئی تھیں جب انھوں نے دہلی کے کناٹ پلیس میں مہا نندا کو تصویریں بناتے دیکھا تھا۔ مہا نندا اس وقت تک خاکہ بنانے والے آرٹسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنا لی تھی اور مقامی اخبارات میں ان کا نام شائع ہوتا تھا۔مہانندا دس منٹ میں کسی کی بھی تصویر بنانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اسی سے متاثر ہو کر شارلوٹ نے اپنی تصویر بنوانے کا فیصلہ کیا لیکن جو تصویر بنی اس سے شارلوٹ مطمئن نہیں ہوئیں اور اگلے روز پھر آنے کا فیصلہ کیا۔مہا نندیا نے اگلے دن جو تصویر بنائی وہ بھی بہت اچھی نہیں تھی۔ اپنے دفاع میں مہانندا نے کہا کہ تصویر بناتے وقت ان کے ذہن میں برسوں پہلے ان کی ماں کی جانب سے کی گئی ایک پیشین گوئی چل رہی تھی۔ریاست اڑیسہ کے رہنے والے مہانندا دلت برادری سے ہیں اور بچپن میں انھوں نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امیتیازی سلوک اور اعلیٰ ذات کے طالب علموں کے تعصب کو محسوس کیا تھا۔مہانندا جب بھی اداس ہوتے تو ان کی ماں ان سے کہتی تھیں کہ ایک دن ان کی شادی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والی لڑکی سے ہوگی جو دور ملک سے آئے گی اور وہ خود اپنے جنگل کی مالک ہوگی۔جب مہانندا کی ملاقات شارلوٹ سے ہوئی تو انھیں اپنی ماں کی پیشن گوئی یاد آئی۔ انھوں نے شارلوٹ سے پوچھا کہ کیا وہ جنگل کی مالک ہیں؟شارلوٹ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس نہ صرف اپنا جنگل ہے بلکہ ان کی موسیقی میں بھی دلچسپی ہے۔مہا نندا نے بی بی سی کو بتایا ’میرے اندر سے آواز آئی کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ اپنی پہلی ہی ملاقات میں ہم ایک دوسر کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچتے چلے گئے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیوں ان سے سوال پوچھے اور چائے کے لیے بھی مدعو کیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ وہ پولیس کو شکایت کر دیں گی۔لیکن شارلوٹ کی رائے بالکل مختلف تھی۔ شارلوٹ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے وہ ایمان دار لگے اور میں بھی یہ جاننا چاہتی تھی کہ انھوں نے اس طرح کے سوالات مجھ سے کیوں کیے۔‘
دونوں کے درمیان کئی بار بات ہوئی اور شارلوٹ مہا نندا کے ساتھ اڑیسہ جانے کو تیار ہوگئیں۔وہ بتاتی ہیں ’جب پی کے نے مجھے کونارک مندر دکھایا تو میں جذباتی ہو گئی۔ لندن میں جب میں پڑھائی کر رہی تھی تب مندر کے پہیے کی تصویر میرے کمرے میں لگی تھی۔ لیکن اس وقت مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ جگہ کہاں ہے۔اور اس روز میں اسی مندر کے باہر کھڑی تھی۔‘دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی گئی اور کچھ دن مہا نندیا کے گاؤں میں گزارنے کے بعد وہ دہلی واپس آئے۔مہاندا یاد کرتے ہیں ’جب وہ پہلی بار میرے والد سے ملیں تو انھوں نے ساڑھی پہن رکھی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ایسا کس طرح کیا۔ میرے والد اور خاندان کی اجازت سے ہم نے قبائلی روایت کے تحت شادی کر لی۔‘شیڈون مشہور ہپّی ٹریل روٹ سے یورپ، ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان کے راستے سڑک سے 22 دنوں میں بھارت پہنچی تھیں۔ مہاندا سے سویڈن میں ان کے شہر بوراس آنے کا وعدہ لے کر وہ اسی راستے سے واپس لوٹ گئیں۔ایک سال سے زیادہ وقت گزر گیا۔ دونوں خطوط کے ذریعہ رابطے میں رہے۔ لیکن مہانندا کے پاس ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے جمع نہیں ہوئے۔انھوں نے جو کچھ بھی پاس تھا سب فروخت کرکے ایک سائیکل خرید لی اور یورپ کے لیے اسی ہپّی ٹریل روٹ کو پکڑ لیا جس سے شارلوٹ بھارت آئی تھیں۔22 جنوری 1977 کو انھوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور وہ روزانہ تقریبا 70 کلومیٹر سائیکل چلاتے تھے۔مہانندا یاد کرتے ہیں ’راستے میں خرچ کرنے کے لیے میں نے اپنے فن کا استعمال کیا۔ میں لوگوں کی تصویر بناتا اور وہ کچھ پیسے دے دیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کھانے اور رہنے کی جگہ بھی دی۔‘
مہاندا یاد کرتے ہیں کہ 70 کے عشرے میں دنیا بہت مختلف تھی۔ زیادہ تر ممالک میں داخل ہونے کے لیے انھیں ویزا کی ضرورت نہیں پڑی۔افغانستان میں لوگ اردو سمجھ لیتے تھے لیکن جب ایران میں داخل ہوئے تو بات کرنے میں مشکلیں آئیں۔ لیکن ان کے فن نے مہانندا کا ساتھ دیا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ محبت عالمی زبان ہے اور لوگ اسے سمجھتے ہیں۔‘لیکن کیا انھیں اس طویل سفر میں کبھی تھکن محسوس نہیں ہوئی؟ ’جی ہاں، بہت بار۔ میرے پیر دکھنے لگتے تھے لیکن شارلوٹ سے ملنے اور نئے مقامات دیکھنے کا جوش مجھے حوصلہ دیتا رہتا۔‘استنبول ہوتے ہوئے آخرکار وہ 28 مئی کو یورپ پہنچ گئے۔ پھرگوتھنبرگ تک کا سفر انھوں نے ریل سے کیا۔ پھر دونوں نے سویڈن میں سرکاری طور پر شادی کر لی۔وہ کہتے ہیں ’مجھے یورپی ثقافت کا کوئی علم نہیں تھا۔ میرے لیے سب کچھ نیا تھا۔ شارلوٹ نے ہر قدم پر میری مدد کی۔ وہ بہت خاص ہیں۔ میں آج بھی انھیں ویسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے کہ سنہ 1975 میں کرتا تھا۔‘64 سالہ مہانندیا اب شارلوٹ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ سویڈن میں ہی رہتے ہیں اور آرٹسٹ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…