ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ڈیجیٹل ’خانہ بدوشوں‘ کے دفتر

datetime 16  جنوری‬‮  2016 |

لندن (نیو زڈیسک)جیا کونڈش خود ’بیڈ اینڈ بریک فاسٹ‘ میں بڑی ہوئیں جہاں ان کے والدین گھر کے کمرے کرائے پر دیتے رہے ہیں میں یہ مضمون ایک باورچی خانے میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں اور میں نے اپنا لیپ ٹاپ میز پر رکھا ہوا ہے۔میں مشرقی لندن کی ایک عمارت میں بیٹھا ہوا ہوں جو اصل میں ایک گودام تھا اور اب اس میں کچھ تبدیلیاں کر کے اس میں بیٹھنے اور کام کرنے کی جگہ بنا دی گئی ہے۔اس جگہ کی رہائشی جیا کونڈش ہیں جو یہاں یوگا سکھاتی ہیں۔میں نے اپنا کام کرنے کے لیے یہ جگہ ایک ویب سائٹ پر جا کر بْک کرائی تھی جس کا نام ہے ’سپیس شاپ‘ یعنی وہ دکان جہاں پر جگہ فروخت ہوتی ہے۔برطانیہ میں اس ویب سائٹ کا آغاز ایک ماہ پہلے ہی ہوا ہے اور اس کا مقصد ایسے لوگوں کو کام کرنے کی جگہ کرائے پر مہیا کرنا ہے جن کا کوئی دفتر نہیں اور انہیں کسی ایسی جگہ کی تلاش ہے جس کا ماحود دفتری نہ ہو اور جہاں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر آرام سے اپنا کام کر سکیں۔میز کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہوئے مائیکل مچل کے بقول: ’میں کسی ایسی جگہ بیٹھ کر کام نہیں کرنا چاہتا جو کسی بڑے دفتر کا حصہ ہو، بلکہ میں تو ایسی جگہ کام کرنا چاہتا ہوں جہاں بیٹھ کر مزا آئے، آپ کا دماغ چلے، اور آپ کا خرچ بھی کم ہو۔‘شام کو یہ عمارت اس کے مالک کے واپس آ جائے گیمائیکل کچھ ہی عرصہ پہلے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس جگہ کے لیے ہر ہفتے 17.20 پاؤنڈ کرایہ دیتا ہوں، اور وہ سامنے بیٹھا ہوا نوجوان کاروباری بھی یہی کرایہ دیتا ہے۔‘تھوڑی ہی دیر بعد وہاں میتھیو بِیٹی بھی آ گئے جو سپیس شاپ کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ’شام تک اس جگہ کا مالک واپس آ جائے گا، اور اس سے پہلے یہاں کام کرنے والے تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے‘’یوں شام کو یہ عمارت اس کے مالک کے واپس آ جائے گی۔‘پیشے کے لحاظ سے مسٹر بِیٹی ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ بھی لندن میں ایس ہی جگہ کی تلاش میں ہیں جہاں وہ دن کے وقت آئیں، اپنے مریضوں کو دیکھیں اور چلے جائیں۔ ’مجھے ایسی جگہ ہر ہفتے دو دنوں کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ اور ابھی تک مجھے کوئی جگہ نہیں ملی، اسی لیے میں نے ابھی لندن میں کام شروع نہیں کیا ہے۔‘س قسم کی ویب سائٹ دراصل ایک جدید ترین خیال کے تحت شروع کی گئی ہیں مجھے لگتا ہے کہ ڈاکٹر بِیٹی کو جلدی کرنا پڑے گی کیونکہ اب شہر میں ایسی جگہوں کے لیے ایک دوڑ یا ’سپیس ریس‘ شروع ہو چکی ہے۔لندن میں سپیس شاپ کی طرز پر کچھ اور کپمنیاں بھی کام کر رہی ہیں جو اپنی خدمات انٹرنیٹ پر پیش کرتی ہیں جہاں سے لوگ اپنے کام کے لیے کوئی جگہ بْک کروا لیتے ہیں۔اس قسم کی ویب سائٹ دراصل ایک جدید ترین خیال کے تحت شروع کی گئی ہیں جس کا مقصد ایک دوسرے کو کاروبار میں مدد دینا ہے تا کہ شہر میں پڑی ہوئی ایسی عمارتیں کسی کام آئیں جو سار دن بیکار پڑی رہتی ہیں۔میتھیو بِیٹی نیمجھے بتایا کہ ’سپیس شاپ‘ کا خیال پہلی مرتبہ امریکی شہر سان فرانسسکو میں ایک شخص کو آیا جہاں اس نے بڑے بڑے گھروں اورتجارتی عمارتوں کے مالکان سے بات کی اور یہ گھر اور عمارتیں دن کے دوران کرائے پر چڑھانا شروع کر دیں۔اسی خیال کے تحت اب دنیا کے کئی بڑے بڑے شہروں میں لوگ دن کے وقت اپنی گاڑیاں بھی کسی کمپنی کو کرائے پر چلانے کے لیے دے دیتے ہیں اور یوں جب وہ دفتر میں ہوتے ہیں تو گھر پر کھڑی ہوئی ’بیکار‘ کار ان کے لیے ایک اضافی آمدن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اپنا گھر کرائے پر لگانے سے پہلے دیکھ لیں کہ گھر کے دیگر مکین اجنبیوں کو کن نظروں سے دیکھیں گیسان فرانسسکو میں قائم ویب سائٹ ’آفس رائیڈرز‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بِیٹی نے مجھے مزید بتایا کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے جگہ بْک کرانے والے لوگوں کی ایک تہائی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہیں آپ ڈیجیٹل دور کے ’خانہ بدوش‘ کہہ سکتے ہیں جو ایسی جگہوں کی تلاش میں تھے جہاں وہ ایک دن کا کرایہ دے کر اپنا کام چلا سکیں۔ویب سائٹ کے نصف صارفین اصل میں ایسی کمپنیاں ہیں جن کے دفاتر چھوٹے ہیں اور انھیں اپنے اہلکاروں اور دوسری کمپنیوں کے ساتھ ملاقات (میٹنگ) کرنے کے لیے ایسی جگہوں کی ضرورت آئے دن پڑتی رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…